براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 144

روحانی خزائن جلد 1 ۱۴۲ براہین احمدیہ حصہ سوم واعظین کو اپنے وعظ کے وقت جان کا اندیشہ تھا۔ اور جن میں امن کے ساتھ وعظ ہونا قطعی محال تھا۔ اور کوئی شخص طریقہ حقہ کو اختیار کر کے اپنی قوم کے ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ لیکن سلطنت انگلشیہ کی آزادی نہ صرف ان خرابیوں سے خالی ہے۔ بلکہ اسلامی ترقی کی بدرجہ غایت ناصر اور مؤید ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس خدا داد نعمت کا قدر کریں۔ اور اس کے ذریعہ سے اپنی دینی ترقیات میں قدم بڑھاویں۔ اور اس طرف بھی توجہ کریں کہ اس مربی سلطنت کی شکر گزاری کے لئے یہ بھی پر ضرور ہے کہ جیسا اُن کی دولت ظاہری کی خیر خواہی کی جائے ایسا ہی اپنے وعظ اور معقول بیان اور عمدہ تالیفات سے یہ کوشش کی جائے کہ کسی طرح دین اسلام کی برکتیں بھی اس قوم کے حصہ میں آجائیں۔ اور یہ امر بجز رفق اور مدارا اور محبت اور حلم کے انجام پذیر نہیں ہو سکتا ۔ خدا کے بندوں پر رحم کرنا اور عرب اور انگلستان وغیرہ ممالک کا ایک ہی خالق سمجھنا اور اس کی عاجز مخلوق کی دل و جان سے غمخواری کرنا اصل دین وایمان کا ہے۔ پس سب سے اول بعض ان نا واقف انگریزوں کے اس وہم کو دور کرنا چاہئیے کہ جو بوجہ نا واقفیت یہ سمجھ رہے ہیں کہ گویا قوم مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتی ہے اور اپنے محسنوں سے ایزا کے ساتھ پیش آتی ہے اور اپنی مربی گورنمنٹ کی بدخواہ ہے۔ حالانکہ اپنے محسن کے ساتھ با حسان پیش آنے کی تاکید جس قدر قرآن شریف میں ہے اور کسی کتاب میں اس کا نام و نشان نہیں پایا جاتا ۔ وَقَالَ اللهُ تَعَالَى إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبَى وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اصْطَنَعَ إِلَيْكُمُ مَعْرُوفًا فَجَازُوهُ فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ مُجَازَاتِهِ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّكُمْ قَدْ شَكَرْتُمْ فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ يُحِبُّ الشَّاكِرِينَ۔ الملتمس خاکسار غلام احمد عفی عنہ ا النحل: 91