براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 103

روحانی خزائن جلد 1 ۱۰۱ براہین احمدیہ حصہ دوم جاتی ہے کہ اسی کو اپنا دھرم بناوے۔ مگر تعجب کہ اس اعتقاد کا وید میں کہیں ذکر تک نہیں۔ اور کوئی شرقی اس میں ایسی نہیں کہ اس متعصبانہ بدظنی کی تعلیم دیتی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشلوک انہیں دنوں میں گھڑا گیا ہے کہ جب آر یہ قوم کے عقلمندوں نے اپنی پستکوں اور حاشیه نم بقیه ح ما منهم۔ یعنی اگر خدا کی کلام ۔ سلام کے لکھنے کے لئے سمندر کو سیاہی بنایا جائے تو لکھتے لکھتے سمند رختم ہو جائے اور کلام میں کچھ کمی نہ ہو۔ گو ویسے ہی اور سمندر بطور مدد کے کام میں لائے جائیں ۔ رہی یہ بات کہ ہم لوگ ختم ہونا وحی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کن معنوں سے مانتے ہیں۔سواس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ گو کلام الہی اپنی ذات میں غیر محدود ہے۔ لیکن چونکہ وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے کلام الہی نازل ہوتی رہی یا وہ ضرورتیں کہ جن کو الہام ربانی پورا کرتا رہا ہے۔ وہ قدر محدود سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس لئے کلام الہی بھی اسی قدر نازل ہوئی ہے کہ جس قدر بنی آدم کو اس کی ضرورت تھی ۔ اور قرآن شریف ایسے زمانہ میں آیا تھا کہ جس میں ہر ایک طرح کی ضرورتیں کہ جن کا پیش آنا ممکن ہے پیش آ گئی تھیں یعنے تمام امور اخلاقی اور اعتقادی اور قولی اور فعلی بگڑ گئے تھے اور ہر ایک قسم کا افراط تفریط اور ہر ایک نوع کا فساد اپنے انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ اس لئے قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہوئی ۔ پس انہیں معنوں سے شریعت فرقانی مختم اور مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں کیونکہ پہلے زمانوں میں وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے الہامی کتا بیں آئیں وہ بھی انتہائی درجہ پر نہیں پہنچے تھے اور قرآن شریف کے ل وقت میں وہ سب اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے۔ بس اب قرآن شریف اور دوسری الہامی کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتا بیں اگر ہر ایک طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں ۔ پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم یعنے فرقان مجید ظہور پذیر ہوتا۔ مگر قرآن شریف کے لئے اب یہ ضرورت در پیش نہیں کہ اس کے بعد کوئی اور کتاب بھی آوے۔ کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ باقی نہیں۔ ہاں اگر یہ فرض کیا جائے کہ کسی وقت اصول حقہ قرآن شریف کے وید اور انجیل کی طرح مشرکانہ اصول بنائے جائیں گے اور تعلیم توحید میں تبدیل اور تحریف عمل میں آوے گی۔ یا اگر ساتھ اس کے یہ بھی فرض کیا جائے۔ جو کسی زمانہ میں وہ کروڑ ہا مسلمان جو توحید ب پر قائم ہیں