براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 702
۔ایسا <mark>دل</mark> شاذ ونادر ہی <mark>کسی</mark> سینہ میں ہوتا ہے۔<mark>جو</mark> غرور اور کینہ سے <mark>پا</mark>ک ہو۔اصل بات یہ ہے کہ حقیقت شناس لوگ کم ہیں۔اگرچہ شکل کے لحاظ سے سب آدمی ہی ہیں۔اے وہ <mark>جو</mark> کنوئیں میں پڑا ہوا ہے اور عقل اور دین دونوں کھو بیٹھا ہے۔خبردار ہو۔غیر محدود) خدا(کو محدود) عقل(کے ذریعہ تلاش نہ <mark>کر</mark> اور مصفّٰی نور کا کام دھوئیں سے نہ لے۔<mark>جو</mark> بات کہ عجزو نیاز کے ساتھ ڈھونڈنی چاہیے۔اسے تکبر، خود بینی اور فخر کے ساتھ نہ ڈھونڈ۔واہ وا ہ سلوک کا یہ اصول کیسا عمدہ ہے <mark>جو</mark> مثنوی میں مولوی رومی کی یاد گار ہے۔عقلمندی کمزوری اور عاجزی کی ضد ہے تو عقلمندی کو چھوڑ اور عاجزی اختیار <mark>کر</mark>۔جس طرح چھوٹے بچے کو ماں دن بھر اپنی گود میں لیے پھرتی ہے صفحہ ۲۲۳۔خدا کا <mark>پا</mark>ک کلام عرفان کے سو جام دیتا ہے <mark>جو</mark> اس شراب سے بے خبر ہے وہ کہاں ایمان کا مزہ جانتا ہے۔اُسے آنکھ نہیں کہنا چاہیے <mark>جو</mark> ساری عمر اندھی رہی ہو نہ وہ کان، کان ہے جس نے کبھی محبوب کی بات نہ سنی ہو صفحہ ۲۲۸۔اگر کوئی چیز اپنی <mark>خوبی</mark> کی وجہ سے اعلیٰ ہو تو <mark>جو</mark> بھی اُس پر الزام لگائے گا تو بیوقوف ہی کہلائے گا۔جب تو <mark>کسی</mark> نیک آدمی پر بدگمانی <mark>کر</mark>ے گا تو لوگ سمجھ لیں گے کہ تو خود بد اصل ہے۔جب تو روشن موتی کو دھن<mark>دل</mark>ا کہے گا تو اس سے تیری آنکھوں کا دھن<mark>دل</mark>ا پن ظاہر ہو گا۔گندی، بے معنی اور بے ہودہ باتیں خبیثوں کی خباثت کو ہی ظاہر <mark>کر</mark>تی ہیں۔تم سوائے جھوٹ کے اور کچھ کہنا نہیں جانتے مگر سچ کے سامنے جھوٹ فروغ نہیں <mark>پا</mark> سکتا۔تم خدائے بے چگوں کو یاد نہیں <mark>کر</mark>تے اور یہ ذلیل دنیا تم کو پسند آگئی ہے۔کوئی اس دنیا سے کیوں <mark>دل</mark> لگائے جبکہ اچانک ایک دن اس سرائے سے کوچ <mark>کر</mark>نا ہے۔اس گھر کا انجام رنج ودرد ہے۔مرد لوگ اس کے داؤ میں نہیں آتے۔اس کیچڑ سے کمینوں کی طرح <mark>دل</mark> کو آلودہ نہ <mark>کر</mark> کہ اس کے ٹھہرنے کا زمانہ دیر تک نہیں رہتا۔جزا کا دن آرہا ہے۔پس تو دنیا کی زندگی پر ناز نہ <mark>کر</mark>