براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 352
روحانی خزائن جلد 1 ۳۵۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۰۲ تو اس صورت میں قرآنی بلاغت کی نظیر بنانا بھی ممنوع نہ ہوگا سو واضح ۳۰۲ بقیه حاشیه نمبـ اگر چہ کوئی اپنے خبث باطن سے الہام الہی کا شکر گزار نہ ہومگر در حقیقت اسی کے قومی ہاتھ اور پر زور بازو سے یقین اور صدق کی کشتی چل رہی ہے اور وہی خدا دانی کے دریا کا نا خدا ہے اور اگر دہر یہ اس کے آثار فیض سے بے بہرہ رہے ہیں تو یہ اس کا قصور نہیں بلکہ خودد ہر یہ اس شخص کی طرح ہیں کہ جو اپنی فطرت سے اندھا اور بہرہ ہو یا اس عضو کی طرح ہیں جو فاسد اور جذام خوردہ ہو گیا ہو۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ اکیلی عقل کو ماننے والے جیسے علم اور معرفت اور یقین میں ناقص ہیں ویسا ہی عمل اور وفاداری اور صدق قدم میں بھی ناقص اور قاصر ہیں اور ان کی جماعت نے کوئی ایسا نمونہ قائم نہیں کیا جس سے یہ ثبوت مل سکے کہ وہ بھی ان کروڑ ہا مقدس لوگوں کی طرح خدا کے وفادار اور مقبول بندے ہیں کہ جن کی برکتیں ایسی دنیا میں ظاہر ہوئیں کہ ان کے وعظ اور نصیحت اور دعا اور توجہ اور تاثیر صحبت سے صد ہا لوگ پاک روش اور با خدا ہو کر ایسے اپنے مولی کی طرف جھک گئے کہ دنیا و مافیہا کی کچھ پرواہ نہ رکھ کر اور اس جہان کی لذتوں اور راحتوں اور خوشیوں اور شہرتوں اور فخروں اور مالوں اور ملکوں سے بالکل قطع نظر کر کے اس سچائی کے راستہ پر قدم مارا جس پر قدم مارنے سے ان میں سے سینکڑوں کی اور اگر وہ اس غرض کے حصول کے لئے ہماری طرف بصدق دل رجوع کرے تو ہم خدا کے فضل اور کرم پر بھروسہ کر کے اس کو طریق اتباع بتلانے کو طیار ہیں پر خدا کا فضل اور استعداد ذاتی درکار ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بچی نجات سچی تندرستی کی مانند ہے پس جیسی سچی تندرستی وہ ہے کہ جس میں تمام آثار تندرستی کے ظاہر ہوں اور کوئی عارضہ منافی اور مغائر تندرستی کا لاحق نہ ہو اسی طرح کچی نجات بھی وہی ہے کہ جس میں حصول نجات کے آثار بھی پائے ۳۰۲ جائیں کیونکہ جس چیز کا واقعی طور پر وجود متحقق ہو اس وجود تحقق کے لئے آثار و علامات کا پائے جانا لازم پڑا ہوا ہے اور بغیر تحقق وجود ان آثار و علامات کے وجود اس چیز کا محقق نہیں ہو سکتا اور جیسا کہ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں تحقق نجات کے لئے یہ علامات خاصہ ہیں کہ انقطاع