براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 348

روحانی خزائن جلد 1 ۳۴۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۲۹۹ متعلقہ کلام میں جیسا کہ چاہئے انسان مراتب اقصیٰ تک پہونچ سکتا ہے کیونکہ بقیه حاشیه نمبر حاشیه نمبر ۲ بقیه حاشیه در ح کے قرار دینے میں غلطی کی ہو اور شاید دہریہ اور طبعیہ ہی سچے ہوں کہ جو عالم کی بعض اجزا کو بعض کا صانع قرار دیتے ہیں اور کسی دوسرے صانع کی ضرورت نہیں سمجھتے میں جانتا ہوں کہ جب نراعقل پرست اس باب میں اپنے خیال کو آگے سے آگے دوڑائے گا تو وسوسہ مذکورہ ضرور اس کے دل کو پکڑلے گا کیونکہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے ذاتی نشان سے باوجود سخت جستجو اور تکاپو کے ناکام رہ کر پھر ایسے وساوس سے بچ جائے وجہ یہ کہ انسان میں یہ فطرتی اور طبعی عادت ہے کہ جس چیز کے وجود کو قیاسی قرائن سے واجب اور ضروری سمجھے اور پھر باوجود نہایت تلاش اور پر لہ درجہ کی جستجو کے خارج میں اس چیز کا کچھ پتہ نہ لگے تو اپنے قیاس کی صحت میں اس کو شک بلکہ انکار پیدا ہو جاتا ہے اور اس قیاس کے مخالف اور منافی سینکڑوں احتمال دل میں نمودار ہو جاتے ہیں، بارہا ہم تم ایک مخفی امر کی نسبت قیاس دوڑایا کرتے ہیں کہ یوں ہوگا یا ؤوں ہوگا اور جب بات کھلتی ہے تو وہ اور ہی ہوتی ہے انہیں روزمرہ کے تجارب نے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ مجرد قیاسوں پر طمانیت کر کے بیٹھنا کمال نادانی ہے غرض جب تک قیاسی اٹکلوں کے ساتھ خبر واقعہ نہ ملے تب تک ساری نمائش عقل کی ایک سراب ہے اس سے زیادہ نہیں جس کا آخری نتیجہ دہر یہ پن ہے سوا گر دہر یہ بننے کا ارادہ ہے تو تمہاری خوشی ورنہ وساوس کے تند سیلاب سے کہ جو تم سے بہتر ہزار ہا عقلمندوں کو اپنی ایک ہی موج سے تحت الثری کی طرف لے گیا ہے صرف اُسی حالت میں تم بیچ سکتے ہو کہ جب عروہ وقتی الہام حقیقی کو مضبوطی سے پکڑ لو ورنہ یہ تو ہرگز نہیں ہو گا کہ تم مجرد خیالات عقلیہ میں ترقی کرتے کرتے آخر خدا کو کسی جگہ بیٹھا ہوا دیکھ لو گے بلکہ تمہارے خیالات کی ترقی کا اگر کچھ انجام ہوگا تو بالآخر یہی انجام ہوگا کہ تم خدا کو بے نشان پا کر اور زندوں کی علامات سے خالی دیکھ کر اور اس کے سراغ لگانے سے عاجز اور درماندہ رہ کر اپنے دہر یہ بھائیوں سے ہاتھ جا ملاؤ گے اور اس سے ظاہر ہو جاتے ہیں کیونکہ وہی کتاب ہے کہ جو دونوں طریق ظاہری اور باطنی کے ذریعہ سے نفوس نا قصہ کو بمرتبہ تکمیل پہونچاتی ہے اور شکوک اور شبہات سے خلاصی بخشتی ہے۔ ظاہری طریق سے اس طرح پر کہ بیان اس کا ایسا جامع دقائق و حقائق ہے کہ جس قدر دنیا میں ایسے شبہات پائے جاتے ہیں کہ جو خدا تک پہنچنے سے روکتے ہیں جن میں مبتلا ہو کر صدہا جھوٹے فرقے پھیل رہے ہیں اور صد با طرح کے