براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 313

روحانی خزائن جلد 1 ☆ اب ۳۱۱ عذر و اطلاع براہین احمدیہ حصہ سوم ا کی دفعہ کہ جو حصہ سوم کے نکلنے میں حد حد ۔ سے زیادہ توقف ہو گئی ۔ غالباً اس توقف سے اکثر خریدار اور ناظرین بہت ہی حیران ہوں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ طرح طرح کے شکوک و شبہات بھی کرتے ہوں ۔ مگر واضح رہے کہ یہ توقف ہماری طرف سے ظہور میں نہیں آئی بلکہ اتفاق یہ ہو گیا کہ جب مئی ۱۸۸۱ء کے مہینہ میں کچھ سرمایہ جمع ہونے کے بعد مطبع سفیر ہند امرتسر میں اجزاء کتاب کے چھپنے کے لئے دیئے گئے اور امید تھی کہ غایت کار دو ماہ میں حصہ سوم چھپ کر شائع ہو جائے گا۔ لیکن تقدیری اتفاقوں سے جن میں انسان ضعیف البنیان کی کچھ پیش نہیں جاسکتی۔ مہتمم صاحب مطبع سفیر ہند طرح طرح کی ناگہانی آفات اور مجبوریوں میں مبتلا ہو گئے ۔ جن مجبوریوں کی وجہ سے ایک مدت دراز تک مطبع بند رہا۔ چونکہ یہ توقف ان کے اختیار سے باہر تھی۔ اس لئے ان کی قائمی جمعیت تک برداشت سے انتظار کرنا مقتضاء انسا نیت تھا۔ والحمد للہ کہ بعد ایک مدت کے ان کے موانع کچھ رو بہ خفت ہو گئے اور اب کچھ تھوڑے عرصہ سے حصہ سوم کا چھپنا شروع ہو گیا۔ لیکن چونکہ اس حصہ کے چھپنے میں بوجہ موانع مذکورہ بالا ایک زمانہ دراز گزر گیا ۔ اس لئے ہم نے بڑے افسوس کے ساتھ اس بات کو قرین مصلحت سمجھا کہ اس حصہ کے مکمل طور پر چھپنے کا انتظار نہ کیا جائے اور جس قد راب تک چھپ چکا ہے وہی خریداروں کی خدمت میں بھیجا جاوے تا ان کی تسلی و تشفی کا موجب ہو اور جو کچھ اس حصہ میں سے باقی رہ گیا ہے۔ وہ انشاء اللہ القدیر چہارم حصہ کے ساتھ جو ایک بڑا حصہ ہے چھپوا دیا جائے گا۔ شاید ہم بعض دوستوں کی نظر میں اس وجہ سے قابل اعتراض ٹھہریں کہ ایسے مطبع میں جس میں ہر دفعہ لمبی لمبی توقف پڑتی ہے کیوں کتاب کا چھپوانا تجویز کیا گیا۔ سواس اعتراض کا جواب ابھی عرض کیا گیا ہے کہ یہ مہتمم مطبع کی طرف سے لاچاری تو قف ہے نہ اختیاری۔ اور وہ ہمارے نزدیک ان مجبوریوں کی حالت میں قابل رحم ہیں نہ قابل الزام ۔ ماسوائے اس کے مطبع سفیر ہند کے مہتمم صاحب میں ایک عمدہ خوبی یہ ہے کہ وہ نہایت صحت اور صفائی اور محنت اور کوشش سے کام کرتے ہیں اور اپنی خدمت کو عرقریزی اور جانفشانی سے انجام دیتے ہیں ۔ یہ پادری صاحب ہیں ۔ مگر باوجود اختلاف مذہب کے خدا نے ان کی فطرت میں یہ ڈالا ہوا ہے کہ اپنے کام منصبی میں اخلاص اور دیانت کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑتے۔ ان کو اس بات کا ایک سودا ہے کہ کام کی عمدگی اور خوبی اور صحت میں کوئی کسر نہ رہ جائے ۔ انہیں وجوہ کی نظر سے باوجود اس طبع اوّل کا ذکر ہے۔ یہ اعلان ایڈیشن طبع دوم ۱۹۰۰ ء میں موجود نہیں ہے طبع اول ۱۸۸۴ ء وطبع سوم ۱۹۰۵ء میں موجود ہے ۔ (شمس)