براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 301

روحانی خزائن جلد 1 ۲۹۹ براہین احمدیہ حصہ سوم جس کی سچائی ابتداء سے ہر یک طالب حق پر آج تک ثابت ہوتی چلی آئی ہے اور ۲۶۹ کے بنانے کی حاجت پڑتی ہے اور نہ کچھ تکلف کرنا پڑتا ہے بلکہ جو ٹھیک ٹھیک عقلمندی کا ۲۷۰ قیه حاشیه نمبر ا ا بقيه فيه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ راہ ہے وہی اس کو نظر آ جاتا ہے ۔ اور جو حقیقی سچائی ہے اسی پر اس کی نگاہ جا ٹھہرتی ہے غرض عقل کا کام یہ ہے کہ الہام کے واقعات کو قیاسی طور پر جلوہ دیتی ہے ۔ اور الہام کا کام یہ کہ وہ عقل کو طرح طرح کی سرگردانی سے بچاتا ہے ۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ سر پہ خالق ہے اس کو یاد کرو کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار یوں ہی مخلوق کو نہ بہکاؤ ۲۶۹ کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ کچھ تو خوف خدا کرو لوگو کچھ تو لوگو خدا سے شرماؤ عيش دنیا سدا نہیں پیارو تو رہنے کی جا نہیں پیارو یہ اس جہاں کو بقا نہیں پیارو کوئی اس میں رہا نہیں پیارو اس خرابہ میں کیوں لگاؤ دل ہاتھ سے اپنے کیوں جلاؤ دل کیوں نہیں تم کو دینِ حق کا خیال ہائے سو سو اٹھے ہے دل میں ابال کیوں نہیں دیکھتے طریق صواب کس بلا کا پڑا ہے دل پہ حجاب اس قدر کیوں ہے کین و استکبار کیوں خدا یاد سے گیا یک بار تم نے حق کو بھلا دیا ہیہات اے عزیز و سنو کہ بے قرآں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر جس کا ہے نام قادر اکبر کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے دل کو پتھر بنا دیا ہیہات حق کو ملتا نہیں کبھی انساں ان پر اس یار کی نظر ہی نہیں عاشق دلبر اس کی ہستی سے دی ہے پختہ خبر کہ بناتا ہے پھر تو کیا کیا نشان دکھاتا ہے دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے سینہ کو خوب صاف کرتا ہے اس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو اور اک جاں وہ وہ تو چپکا ہے نیر اکبر ہمیں دلستاں تلک لایا اس سے انکار ہو سکے کیونکر اس کے پانے سے یار کو پایا