براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 280
روحانی خزائن جلد 1 ۲۷۸ براہین احمد یہ حصہ سوم ۲۵۱ میں ہمارے پاس بھیج دیں تا وہ اس کے کسی مقام مناسب میں بطور حاشیہ مندرج ہو کر شائع بقيه نمبر ا ه حاشیه در حاشیه نم یہ ہوتا ہے کہ ان کے ہر ایک قسم کے اخلاق ظاہر ہوں اور یہ پایہ ثبوت پہنچ جا ر به پایہ ثبوت پہنچ جائیں ۔ سو خدائے تعالیٰ اسی ارادہ کو پورا کرنے کی غرض سے ان کی نورانی عمر کو دو حصہ پر منقسم کر دیتا ہے۔ ایک حصہ تنگیوں اور مصیبتوں میں گزرتا ہے اور ہر طرح سے دکھ دیئے جاتے ہیں اور ستائے جاتے ہیں تا وہ اعلیٰ اخلاق ان کے ظاہر ہو جائیں کہ جو بجز سخت تر مصیبتوں کے ہرگز ظاہر اور ثابت نہیں ہو سکتے ۔ اگر ان پر وہ سخت تر مصیبتیں نازل نہ ہوں ۔ تو یہ کیونکر ثابت ہو کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ مصیبتوں کے پڑنے سے اپنے مولی سے بے وفائی نہیں کرتے بلکہ اور بھی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔ اور خداوند کریم کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے سب کو چھوڑ کر انہیں پر نظر عنایت کی۔ کامل تابعین پر جو اہل اسلام ہیں ان کی تابعداری کی وجہ سے اور نیز اس باعث سے کہ وہ اپنے رسول کے علوم کے وارث ہیں۔ بعض اسرار پوشیدہ ان پر بھی کھولتا ہے تا ان کے صدق مذہب پر ایک نشان ہو۔ لیکن دوسری قو میں جو باطل پر ہیں جیسے ہندو اور ان کے پنڈت اور عیسائی اور ان کے پادری۔ وہ سب ان کامل برکتوں سے بے نصیب ہیں ۔ میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ شخص اس بات پر اصراری ہو گیا کہ اگر اسلام کے متبعین کو دوسری قوموں پر ترجیح ہے تو اسی موقع پر اس ترجیح کو دکھلانا چاہئے ۔ اس کے جواب میں ہر چند کہا گیا کہ اس میں خدا کا اختیار ہے انسان کا اس پر حکم نہیں مگر اس آریہ نے اپنے انکار پر بہت اصرار کیا۔ غرض جب میں نے دیکھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور دین اسلام کی عظمتوں سے سخت منکر ہے۔ تب میرے دل میں خدا کی طرف سے یہی جوش ڈالا گیا کہ خدا اس کو اسی مقدمہ میں شرمندہ اور لاجواب کرے۔ اور میں نے دعا کی کہ اے خداوند کریم تیرے نبی کریم کی عزت اور عظمت سے یہ شخص سخت منکر ہے اور تیرے نشانوں اور پیشین گوئیوں سے جو تو نے اپنے رسول پر ظاہر فرمائیں سخت انکاری ہے اور اس مقدمہ کی آخری حقیقت کھلنے سے یہ لا جواب ہو سکتا ہے اور تو ہر بات پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی امر تیرے علم محیط سے مخفی نہیں ۔ تب خدا نے جو اپنے سچے دین اسلام کا حامی ہے اور اپنے رسول کی عزت اور عظمت