براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 276

براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۷۴ روحانی خزائن جلد 1 بقي قیه حاشیه نمبر ا ا طالب حق بن کر یعنے اسلام قبول کرنے کا تحریری وعدہ کر کے کسی کتاب عبرانی اپنی خداوندی کی طاقتوں اور فضلوں اور برکتوں کو مسلمانوں پر ظاہر کرتا ہے اُنہیں ربّانی مواعید اور بشارتوں میں سے کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں ۔ کسی قدر حاشیہ ممدوحہ میں لکھ دیا ہے ۔ پس اگر کوئی پادری یا پنڈت یا برہمو کہ جو اپنی کور باطنی سے منکر ہیں یا کوئی آریہ اور دوسرے فرقوں میں سے سچائی اور راستی سے خدا تعالیٰ کا طالب ہے تو اس پر لازم ہے کہ سچے طالبوں کی طرح اپنے تمام تکبروں اور غروروں اور نفاقوں اور دُنیا پرستیوں اور ضدوں اور خصومتوں سے بکلی پاک ہو کر اور فقط حق کا خواہاں اور حق کا جو یاں الہام دل کو تسلی اور سکینت اور آرام بخشتا ہے۔ اور طبیعت مضطرب پر اس کی خوشی اور جنگی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ایک باریک بھید ہے جو عوام لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ مگر عارف اور صاحب معرفت لوگ جن کو حضرت واہب حقیقی نے اسرار ربانی میں صاحب تجربہ کر دیا ہے ۔ وہ اس کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں۔ اور اس صورت کا الہام بھی اس عاجز کو با رہا ہوا ہے جس کا لکھنا بالفعل کچھ قیه حاشیه در حاشیه نمبر ا ضروری نہیں ۔ صورت چہارم الہام کی یہ ہے کہ رویا صادقہ میں کوئی امر خدائے تعالیٰ کی طرف سے منکشف ہو جاتا ہے یا کبھی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متشکل ہو کر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے یا کوئی تحریر کا غذ پر یا پتھر وغیرہ پر مشہور ہو جاتی ہے جس سے کچھ اسرار غیبیہ ظاہر ہوتے ہیں ۔ وغيرها من الصور چنانچہ یہ عاجز اپنے بعض خوابوں میں سے جن کی اطلاع اکثر مخالفین اسلام کو انہیں دنوں میں دی گئی تھی کہ جب وہ خوابیں آئی تھیں اور جن کی سچائی بھی انہیں کے رو بر وظاہر ہوگئی بطور نمونہ بیان کرتا ہے۔ منجملہ ان کے ایک وہ خواب ہے جس میں اس عاجز کو جناب خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تھی اور بطور مختصر بیان اس کا یہ ہے کہ اس احقر نے ۱۸۶۴ ء یا ۱۸۶۵ء عیسوی میں یعنے ۲۴۸ ۲۴۸ ۲۴۸