براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 684 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 684

۔نہ خاکساری سے <mark>کسی</mark> اور سے پوچھتے ہیں اور نہ خود اپنے ف<mark>کر</mark> سے کام لیتے ہیں۔نہ <mark>دل</mark> میں اس تحقیقات کی پروا رکھتے ہیں کہ سب دینوں میں کون سا دین بہتر ہے۔صرف ایک) دین(پر مائل اور لاکھوں کے مخالف ہیں قلت اور کثرت میں فرق سے بے ف<mark>کر</mark> ہیں۔نہ ان کے <mark>دل</mark> میں خدا کا خوف ہے نہ قیامت کا ڈر۔اُن سیاہ <mark>دل</mark> والوں نے اپنی آنکھوں کو سی لیا ہے کینہ اور بغض سے اژدھے کی طرح جل بھن رہے ہیں۔جان بوجھ <mark>کر</mark> سچائی سے روگرداں ہیں اور بے وفا دنیا سے <mark>دل</mark> لگایا ہوا ہے۔انہوں نے حق کا مقابلہ <mark>کر</mark>نے کے لئے جہالت سے اپنے ہی گھر میں ایک مستقل ممبر بنا لیا ہے۔ان کا خدا بھی عجب خدا ہے جسے ہر ملک سے لاپروائی رہی۔اُسے ہمیشہ اپنے الہام کے لئے پسند آئے ایک زبان اور ایک چھوٹا سا ملک۔ایسی رائے کیون<mark>کر</mark> صحیح ہو سکتی ہے؟ اور عقل کس طرح اس کی طرف رہنمائی <mark>کر</mark> سکتی ہے؟۔ایسا شخص نیکوں پر بدگمانی کیون<mark>کر</mark> <mark>کر</mark> سکتا ہے جبکہ وہ خودنیک اور نیک خو ہو۔چاند کی نسبت یہ کہنا کہ یہ کچھ بھی نہیں اس سے بڑھ <mark>کر</mark> کوئی گالی نہیں۔۔اگر اندھا کہے کہ سورج کہاں ہے تو وہ اپنے اندھے پن میں زیادہ رسوا ہو گا۔۔چمکتے ہوئے سورج کے متعلق شک وشبہ نہ <mark>کر</mark>۔تا کہ تو ملامت کے لائق نہ ٹھہرے۔۔اگر تو خدا کا طالب ہے تو کج روی نہ <mark>کر</mark>۔اس قاہر خدا کے غضب سے کیوں نہیں ڈرتا۔۔تو روز قیامت سے کیوں نہیں ڈرتا۔انصاف <mark>کر</mark>نے والے خدا سے کیوں خوف نہیں کھاتا۔۔اُن کے اس افترا پر تجھے کس طرح اعتبار آگیا یا خدا نے ہی تیرے سامنے کوئی دفتر کھول دیا ہے۔صفحہ ۲۳۔اُن) نبیوں (کے نور نے ایک جہان کوگھیر لیا لیکن اے اندھے! تو ابھی غل وشور میں مبتلا ہے۔۔چمکدار لعل کو اگر تو خراب کہہ دے تو اس سے آبدار ہیرے کی قیمت کیون<mark>کر</mark> گھٹ سکتی ہے۔۔<mark>پا</mark>کوں پر طعنہ زنی کبھی <mark>پا</mark>ک لوگوں پر نہیں پڑتی تو خود ثابت <mark>کر</mark>تا ہے کہ تو ایک فاسق ہے۔مردانِ خدا سے عداوت <mark>کر</mark>نا نامردی ہے بشر تو وہ ہوتا ہے <mark>جو</mark> بے شر ہو