براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 555
روحانی خزائن جلد 1 ۵۵۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم اپنی اصلی ہیئت اور وضع پر سلامت رہیں اور متعفن ہونے بھی نہ پاویں بلکہ ابھی تازہ ہی ہوں اور موت پر دو تین گھنٹہ سے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو جیسے پانی بقیه ، حاشیه حاشيه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے ان کو گمراہ کیا یعنی جبکہ انہوں نے ہدایت پانے کے طریقوں کو بجد و جہد طلب نہ کیا تو خدا نے بہ پابندی اپنے قانون قدیم کے ان کو ہدایت بھی نہ دی اور اپنی تائید سے محروم رکھا ۔ اسی کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا وَلَا الضَّالين - غرض شعبدہ بازوں کی طرح بازاروں اور مجالس میں تماشا دکھلاتے پھریں اور نہ یہ امور ان کے اختیار میں ہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے پتھر میں آگ تو بلا شبہ ہے لیکن صادقوں اور صابروں اور مخلصوں کی پُر ارادت ضرب پر اس آگ کا ظہور اور بروز موقوف ہے اور ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اہل اللہ کے کشوف اور الہامات کو فقط اخبار غیبیہ کا ہی خطاب دینا غلطی ہے بلکہ وہ کشوف اور الہامات تائیدات الہیہ کے باغ کی خوشبوئیں ہیں جو دور سے ہی اس باغ کا وجود بتلاتے ہیں اور عظمت اور شان ان کشوف اور الہامات کے اس شخص پر کما حقہ کھلتی ہے جس کی نظر تائیدات الہیہ کی تلاش میں ہو یعنی وہ اصل نشان تائیدات الہیہ کو ٹھہرا کر پیشگوئیوں کو ان تائیدوں کے لوازم سمجھتا ہو جو بغرض ثابت کرنے تائیدوں کے استعمال میں لائے گئے ہیں ۔ غرض ۴۶۳ مدار مقرب اللہ ہونے کا تائیدات الہیہ ہیں اور پیشگوئیاں روشن ثبوت سے ان تائیدات کا واقعی طور پر پایا جانا ہر ایک عام اور خاص کو دکھلاتے ہیں۔ پس تائیدات اصل ہیں اور پیشگوئیاں اُن کی فرع اور تائیدات قرص آفتاب کی طرح ہیں اور پیشگوئیاں اس آفتاب کی شعاعیں اور کرنیں ہیں۔ تائیدات کو پیشگوئیوں کے وجود سے یہ فائدہ ہے کہ تاہر ایک کو معلوم ہو کہ وہ حقیقت میں خاص تائیدیں ہیں معمولی اتفاقات سے نہیں اور بخت اور اتفاق پر محمول نہیں ہو سکتیں اور پیشگوئیوں کو تائیدات کے وجود سے یہ فائدہ ہے کہ اس بزرگ پیوند سے ان کی شان بڑھتی ہے اور ایک بے مثل خصوصیت ان میں پیدا ہو جاتی ہے کہ جو موید ان الہی کے غیر میں نہیں پائی جاتی ۔ سو یہی خصوصیت عام پیشگوئیوں اور ان جلیل الشان پیشگوئیوں میں مابہ الامتیاز ٹھہر جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ