براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 508 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 508

براہین احمدیہ حصہ چہارم ۵۰۶ روحانی خزائن جلد 1 سب خواندہ اور نا خواندہ اُس میں برابر ہیں ۔ لیکن اس حکیم مطلق نے علم الہی کے دقائق اور اسرار عالیہ میں یہ چاہا ہے کہ انسان محنت کر کے ان کو دریافت کرے تا یہی محنت اس کے لئے موجب تکمیل نفس ہو جائے کیونکہ بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ایسا تحقق ہو کہ کوئی اشتباہ درمیان نہ رہ جائے اور من حیث الوجود اس طرح پر کامل ہو کہ انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو جائے ۔ اور نیز دائمی اور لازوال اور غیر منقطع ہو ہو تا تا وہ شخص جو نیکیوں میں سبقت لے گیا ہے اپنی اُس سعادت عادت عظمی عنف کو کہ جو تمام سعادتوں کا انتہائی مرتبہ ہے اور وہ شخص کہ جو بدیوں میں سبقت لے گیا ہے دیوتا سب بیلوں کے ساتھ بڑھتا جا۔ ہمارا دوست ہو۔ خوراک کی طرف سے آسودہ حالی بخش تاہم پھلیں پھولیں ۔ چاند دیوتا اس شخص کو جو کہ نذریں چڑھاتا ہے۔ دودھ والی گائے چالاک گھوڑا اور ایک بیٹا جو کہ کاروبار میں ہوشیار خانگی تعلقات میں ہنرمند پوجا میں سرگرم مجلس میں لائق اور جو اپنے باپ کی عزت کا باعث ہو دیتا ہے۔ ہم اے چاند دیوتا تجھے رن میں اٹل ہزاروں آدمیوں کے گروہوں میں لڑ کر فتح یاب ہونے والا ۔ طاقت زائل نہ ہونے دینے والا ۔ یگوں کے درمیان پیدا اور روشن مکان میں رہنے والا مشہور اور بہادر جان کر خوش ہوتے ہیں۔ تو نے اے چاند دیوتا یہ پودے پانی کے اور گوویں پیدا کی ہیں ۔ تو نے کشادہ آسمان کو پھیلایا ہے۔ تو نے تاریکی کو روشنی سے پراگندہ کر دیا ہے۔ اے طاقتور چاند دیوتا اپنی روشن دماغی کے ساتھ اپنی دولت کا ایک حصہ دے ایسا ہو کہ کوئی مخالف تجھے دق نہ کر سکے۔ تو کسی دو برابر کے مخالفوں کی بہادری پر فوقیت رکھتا ہے ہمیں رن میں ہمارے دشمنوں سے بچا۔ سورج روشن صبح کے اس طرح ساتھ آتا ہے۔ جیسے مرد نو جوان خوبصورت عورت کے پیچھے چلتا ہے۔ اس وقت دھرم آتما لوگ مقرری وقت کی رسموں کو کرتے ہیں اور مبارک سورج کو اچھے انعام کی خاطر پوجتے ہیں۔ ۴۲۴ ۴۲۴