براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 483

روحانی خزائن جلد 1 ۴۸۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا ا بقيه ۔ حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ادنی اور ارذل ہے کہ دقائق مخفیہ میں ایک مکھی کے مرتبہ تک بھی نہیں پہنچتا۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ خدا نے ضروریات دین میں سے کسی امر کا اخفا (۴۰۳ نہیں کیا ۔ اور دقائق عمیقہ وہ دقائق ہیں جو ماسوا اصل اعتقاد کے بالائی امور اُس کا اِس سلسلہ سے باہر نہ ہو اور نہ غیر معلوم اور نامفہوم ہو تو وہ چیز محدود ہوتی ہے ۔ اب اگر خدائے تعالیٰ کی قدرت کا ملہ ور بو بیت تا مہ کو قوانین محدوده محصوره میں ہی منحصر سمجھا جائے ۔ تو جس چیز کو غیر محمد و دتسلیم کیا گیا ہے ۔ اس کا محدود ۴۰۳ جو حق اور حکمت کی روشنی دکھلانے پر منحصر ہے کیونکر اس کو نصیب ہو سکتی ہے۔ کیا ہم ایسے کلام کو بلیغ کہہ سکتے ہیں جس کی نسبت دعوئی تو یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصود اصلی شرک کا مٹانا اور توحید کا قائم کرنا ہے۔ لیکن وہ گونگوں کی طرح اس دعوی کو بہ پا یہ صداقت پہنچانے سے عاجز رہا ہے ۔ ہر ایک عاقل جانتا ہے کہ وجوہ بلاغت میں سے نہایت ضروری ایک یہ وجہ ہے کہ جس بات کا ظاہر کرنا اور کھولنا مقصود ہو اس کو اس طرح کھول کر بتلا یا جاوے کہ طالب حق کی تسلی کے لئے کافی ہو اور سب کو معلوم ہے کہ وہی شخص فصیح کہلاتا ہے جو کہ اپنے مطلب کو ایسے عمدہ طور پر ادا کرے کہ گویا اپنے مافی الضمیر کا نقشہ کھینچ کر دکھلاوے ۔ اب اگر آریا صاحبوں کا دعوی یہ ہوتا کہ وید کا اصلی مطلب مخلوق پرستی کی تعلیم ہے۔ تو شاید اس کی نسبت گمان ہو سکتا کہ وہ بلاغت کے درجہ سے بکلی ساقط نہیں۔ کیونکہ گو وید نے حقیقی بلاغت کے مذاق پر مخلوق پرستی پر کوئی دلیل بیان نہیں کی اور اس کو ثابت کر کے نہیں دکھلایا ۔ مگر تا ہم واضح کلام سے کہ بلاغت کی ایک جز ہے اپنا منشاء دیوتاؤں کی پوجا کی نسبت کھول کر بیان کر دیا اور اگنی اور وایو ۴۰۳ اور اندر وغیرہ کی تعریف میں صدہا منتر جنتر بنا ڈالے ۔ اور ان چیزوں سے گوئیں اور گھوڑے اور بہت سا مال بھی مانگا ۔ لیکن اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ وید نے اپنی قوت بیانی اور کمال بلاغت سے توحید کے بیان کرنے میں زور لگایا ہے اور مشرکین کے اوہام اور وساوس کو دلائل واضحہ سے مٹایا ہے اور جو جو براہین اقامت توحید اور ازاله شرک