براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 446
روحانی خزائن جلد 1 براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۷ اس مرتبہ اقصیٰ تک نہ پہنچا وے جس تک پہنچنے کے لئے اس کو استعداد دی گئی ۳۷۱ ۳۷۱ تھی بلکہ جنگلی اور بے زبان اور وحشی اور جاہل وہی رہتا ہے کہ جو اپنی فطرت میں ناقص اور ناکارہ اور چارپایوں کی طرح ہے ۔ ماسوا اس کے جبکہ خدا نے بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ غیر متکلم ہونا اور نطق پر ہرگز قادر نہ ہونا اور اپنے علوم کے القا اور الہام سے عاجز ہونا تجویز کرتے ہیں اور جو حقیقی اور کامل بادی میں صفات کا ملہ ہونی چاہئے ۔ ان صفات سے اس کو خالی سمجھتے ہیں بلکہ اس قدر ایمان بھی انہیں نصیب نہیں کہ وہ خدائے تعالیٰ کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ اپنی ہستی اور الوہیت کو اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے دنیا میں ظاہر کیا ہے۔ برخلاف اس کے وہ تو یہ کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ ایک مردہ یا ایک پتھر کی طرح کسی گوشتہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ عقلمندوں نے آپ محنتیں کر کے اس کے وجود کا پتہ لگایا اور اس کی خدائی کو دنیا میں مشہور کیا۔ پس ظاہر ہے کہ وہ بھی مثل اپنے اور بھائیوں کے محامد کاملہ حضرت احدیت سے منکر ہیں بلکہ جن تعریفوں سے اس کو یاد کرنا چاہئے وہ تمام تعریفیں اپنے نفس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ رب العالمین الرحمن الرحیم ملک یوم الدین اس جگہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالی نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائیں۔ يعنى رب العالمين۔ رحمان رحیم۔ مالک یوم الدین ۔ اور ان ہر چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمان کو ذکر کیا۔ پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔ پھر سب کے اخیر صفت مالک یوم الدین کو لائے۔ پس سمجھنا چاہئے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی ۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا پر خدا کا عقلی دلیل قائم نہیں ہو سکتی تو اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ کیا آپ کے دہر یہ بنے میں کچھ کسر بھی رہ گئی ۔ کیا آپ لوگوں میں سے ایسی کوئی بھی روح نہیں کہ جو اس بار یک دقیقہ کو سمجھے کہ قرآن سے انکار کرنا حقیقت میں رحمان پر حملہ ہے ۔ جس کتاب کے