براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 434

روحانی خزائن جلد 1 ۴۳۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۶۲) کی شرائط موجود تھی۔ اوّل ذاتی قابلیت پہلے انسان میں جیسا کہ چاہئیے الہام ۳۶۲ ۳۶۲ بقیه حاشیه در شیه در حاشیه نمبر ۳ نرائن سنگھ نام وکیل امرتسری ہیں جنہوں نے پادری کے اعتراض کو سچ سمجھ کر اپنے دلی عناد کے تقاضا کی وجہ سے وہی ! ، وہی پوچ اعتراض اپنے رسالہ ودیا پر رسالہ ودیا پر کا شک میں درج کر دیا ہے سو ہم اس اعتراض کو معہ جواب اس ے کے لکھنا ناس سمجھتے ہیں ا مصفین کو معلوم و ر ر را تعیب نے الله ہمارے مخالفین کو کس درجہ کی کور باطنی اور نابینائی تک پہنچا دیا ہے کہ جو نہایت درجہ کی روشنی ہے۔ وہ ان کو تاریکی دکھائی دیتی ہے۔ اور جو اعلیٰ درجہ کی خوشبو ہے وہ اس کو بد بو تصور کرتے ہیں ۔ سواب جانا چاہئے کہ جو اعتراض بسم الله الرحمن الرحیم کی بلاغت پر مذکورہ بالا لوگوں نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ الرحمن الرحیم جو بسم اللہ میں واقع ہے یہ فصیح طرز پر نہیں اگر رحیم الرحمن ہوتا تو یہ فصیح اور صحیح طرز تھی کیونکہ خدا کا نام رحمان باعتبار اس رحمت کے ہے کہ جواکثر اور عام ہے اور رحیم کا لفظ بہ نسبت رحمان کے اس رحمت کے لئے آتا ہے کہ جو قلیل اور خاص ہے۔ اور بلاغت کا کام یہ ہے کہ قلّت سے کثرت کی طرف انتقال ہو نہ یہ کہ کثرت سے قلت کی طرف ۔ یہ اعتراض ہے کہ ان دونوں صاحبوں نے اپنی آنکھیں بند کر کے اس کلام پر کیا ہے جس کلام کی بلاغت کو عرب کے تمام اہل زبان جن میں بڑے بڑے شاعر بھی تھے باوجود سخت مخالفت کے تسلیم کر چکے ہیں بلکہ بڑے بڑے معاند اس کلام کی شان عظیم سے نہایت درجہ تعجب میں پڑ گئے اور اکثر ان میں سے کہ جو فصیح اور بلیغ کلام کے اسلوب کو بخوبی جاننے پہچاننے والے اور مذاق سخن سے عارف اور با انصاف تھے وہ طرز قرآنی کو طاقت انسانی سے باہر دیکھ کر ایک معجزہ عظیم یقین کر کے ایمان لے آئے جن کی شہادتیں کی پیشین گوئی کے بموجب قرآن شریف کو خدا نے نازل کیا اور ایسی جامع شریعت عطا فرمائی جس میں نہ توریت کی طرح خواہ نخواہ ہر جگہ اور ہر محل میں دانت کے عوض دانت نکالنا ضروری لکھا اور نہ انجیل کی طرح یہ حکم دیا کہ ہمیشہ اور ہر حالت میں دست دراز لوگوں کے طمانچے کھانے چاہیے بلکہ وہ کامل کلام عارضی خیالات سے ہٹا کر حقیقی نیکی کی طرف