براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 432
روحانی خزائن جلد 1 ۴۳۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم مادہ قابلہ کے ہو جایا کرے ۔ بلکہ القا اور الہام کے لئے مادۂ قابلہ کا ہونا نہایت ۳۶۱ ضروری شرط ہے اور دوسری شرط یہ بھی ہے کہ اس الہام کے لئے ضرورت بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا ا قيه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ہے جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جاتا ہے یعنی خدائے تعالیٰ اپنی صفت رحیمیت سے کسی کی محنت اور کوشش کو ضائع ہونے نہیں دیتا اور آخر جوئندہ یا بندہ ہو جاتا ہے ۔ غرض یہ صداقتیں ایسی بین الظہور ہیں کہ ہر ایک شخص خود تجربہ کر کے ان کی سچائی کو شناخت کر سکتا ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں کہ بشرط کسی قدر عقلمندی کے یہ بدیہی صداقتیں اس پر چھپی رہیں ۔ ہاں یہ بات ان عام لوگوں پر نہیں کھلتی کہ جو دلوں کی سختی اور غفلت کی وجہ سے صرف اسباب معتادہ پر ان کی نظر ٹھہری رہتی ہے اور جو ذات متصرف فی الاسباب ہے اس کے تصرفات لطیفہ پر ان کو علم حاصل نہیں ہوتا اور نہ ان کی عقل اس قدر وسیع ہوتی ہے کہ جو اس بات کو سوچ لیں کہ ہزار ہا بلکہ بے شمار ایسے اسباب سماوی و ارضی انسان کے ہر یک جسم کی آرائش کے لئے درکار ہیں جن کا بہم پہنچنا ہرگز انسان کے اختیار اور قدرت میں نہیں بلکہ ایک ہی ذات مستجمع صفات کا ملہ ہے کہ جو تمام اسباب کو آسمانوں کے اوپر سے زمینوں کے نیچے تک پیدا کرتا ہے اور ان پر بہر طور تصرف اور قدرت رکھتا ہے مگر جو لوگ عقلمند ہیں وہ اس بات کو بلاتر ڈو بلکہ بدیہی طور پر سمجھتے ہیں اور جو ان سے بھی اعلیٰ اور صاحب تجربہ ہیں وہ اس مسئلہ میں حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچے ہوئے ہیں لیکن یہ شبہ کرنا کہ یہ استعانت بعض اوقات کیوں بے فائدہ اور غیر مفید ہوتی ہے اور کیوں خدا کی رحمانیت و رحیمیت ہر یک وقت استعانت میں تجلی نہیں فرماتی ۔ پس یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط فہمی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ان دعاؤں کو کہ جو خلوص کے ساتھ کی جائیں ضرور سنتا ہے اور جس طرح مناسب ہو مدد چاہنے والوں کے لئے مدد بھی کرتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی استمداد اور دعا میں خلوص نہیں ہوتا نہ انسان تعلیم کو نیست و نابود کر کے اس کامل کتاب کو دنیا کی تعلیم کے لئے بھیجے گا کہ جو حقیقی نیکی کی طرف تمام دنیا کو بلائے گی اور بندگان خدا پر حق اور حکمت کا دروازہ کھول دے گی ۔ اس لئے کہ اس کو کہنا پڑا کہ ابھی بہت سی باتیں قابل تعلیم باقی ہیں جن کی تم ہنوز برداشت