براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 429

روحانی خزائن جلد 1 ۴۲۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم الہامات سے ابتداء زمانہ میں جبکہ ان کی نہایت ضرورت تھی ۔ خدا نے دریغ کیا ۳۵۸ بقيه حاشیه نـ نمبر سخت نادانی اور کور باطنی ہے ۔ اور اگر کسی کے دل میں یہ وہم گزرے کہ اب ہی خشک فلسفیوں کا ایمان ہے کہ جو قیوم عالم کے سہارے پر نظر نہیں رکھتے اور اس مبدء فیوض کو جس کا نام اللہ ہے۔ ہر یک طرفہ العین کے لئے اور ہر حال میں اپنا محتاج الیہ قرار نہیں دیتے ۔ پس یہ لوگ حقیقی توحید سے ایسے دور پڑے ہوئے ہیں جیسے نور سے ظلمت دور ہے۔ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں کہ اپنے تئیں بیچ اور لاشئے سمجھ کر قادر مطلق کی طاقت عظمی کے نیچے آ پڑنا عبودیت کے مراتب کی آخری حد ہے اور توحید کا انتہائی مقام ہے جس سے فنا اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے اور انسان اپنے نفس اور اس کے ارادوں سے سے بال بالکل کھویا جاتا ہے اور سچے سچے د دل سے خدا کے تصرف پر ایمان لاتا ہے۔ اس جگہ ان خشک فلسفیوں کے اس مقولہ کو بھی کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو ۳۵۸ کہتے ہیں کہ کسی کام کے شروع کرنے میں استمداد الہی کی کیا حاجت ہے۔ خدا نے ہماری فطرت میں پہلے سے طاقتیں ڈال رکھی ہیں پس ان طاقتوں کے ہوتے ہوئے پھر دوبارہ خدا سے طاقت مانگنا تحصیل حاصل ہے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ بے شک یہ بات سچ ہے کہ خدائے تعالی نے بعض افعال کے بجالانے کے لئے کچھ کچھ ہم کو طاقتیں بھی دی ہیں مگر پھر بھی اس قیوم عالم کی حکومت ہمارے سر پر سے دور نہیں ہوئی اور وہ ہم سے الگ نہیں ہوا اور اپنے سہارے سے ہم کو جدا کرنا نہیں چاہا اور اپنے فیوض غیر متناہی سے ہم کو محروم کرنا روا نہیں رکھا ۔ جو کچھ ہم کو اس نے دیا ہے وہ ایک امر محدود ہے۔ اور جو کچھ اس سے مانگا جاتا ہے اس کی نہایت نہیں علاوہ اس کے جو کام ہماری طاقت سے باہر ہیں ان کے حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی ہم کو طاقت نہیں دی گئی ۔ اب اگر غور کر کے دیکھو اور ذرا پوری فلسفیت کو کام میں جاننا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم اس کمال کے مرتبہ سے جس سے نظام عالم مربوط و مضبوط ہے متنزل و فروتر ہے ۔ اور اس تعلیم کو کامل خیال کرنا بھی بھاری غلطی ہے ایسی تعلیم ۳۵۸ ہرگز کامل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ ان ایام کی تدبیر ہے کہ جب قوم بنی اسرائیل کا اندرونی رحم بقيه