براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 396

۳۳۱ روحانی خزائن جلد 1 ۳۹۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم پیدا کر کے اپنی قدرت تامہ کا ثبوت دے دیا ہے۔ پھر بولیوں کے بارہ میں کیوں اس کی اب ہم اس جگہ بغرض فائدہ عام یہ بات بطور قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہیں کہ کلام کا وہ کون سا مرتبہ ہے جس مرتبہ پر کوئی کلام واقعہ ہونے سے اس صفت سے متصف ہو جاتا ہے کہ اس کو بے نظیر اور منجانب اللہ کہا جائے اور پھر بطور نمونہ کوئی سورہ قرآن شریف کی لکھ کر اس میں یہ ثابت کر کے دکھلائیں گے کہ وہ تمام وجوہ بے نظیر جو قاعدہ کلیہ میں قراردی گئی ہیں۔ اس سورہ میں بہ تمام و کمال پائی جاتیہیں اور اگر اس کوان وجوہ بے نظیری کے قول کرنے میں پھربھی انکار ہوگا تویہ بار عورت اس کے ذمہ ہو گا کہ کوئی دوسرا کلام پیش کر کے دکھلاوے جس میں وہ تمام وجوہ بے نظیری پائے جاویں۔ سو واضح ہو کہ اگر کوئی کلام ان تمام چیزوں میں سے کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے صادر اور اس کے دست قدرت کی صنعت ہیں کسی چیز سے مشابہت کلی رکھتا ہو یعنے اس میں عجائبات ظاہری و باطنی ایسے طور پر جمع ہوں کہ جو مصنوعات الہیہ میں سے کسی شے میں جمع ہیں تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ وہ کلام ایسے مرتبہ پر واقع ہے کہ جس کی مثل بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں کیونکہ جس چیز کی نسبت بے نظیر اور صادر من الله ہونا عند الخواص والعوام ایک مسلم اور مقبول امر ہے جس میں کسی کو اختلاف و نزاع نہیں موجودہ کے رو سے وہ اصلی خدا نہیں کہ جو ہمیشہ حدوث اور تولد اور تجسم اور موت سے پاک تھا۔ بلکہ انجیل کی تعلیم کے رو سے عیسائیوں کا خدا ایک نیا خدا ہے یا وہی خدا ہے کہ جس پر بد قسمتی سے بہت کی مصیبتیں آئیں اور آخری حال اس کا پہلے حال سے کہ جواز لی اور قدیم تھا بالکل بدل گیا اور ہمیشہ قیوم اور غیر متبدل رہ کر آخر کار تمام قیومی اس کی خاک میں مل گئی۔ ماسوائے اس کے عیسائیوں کے محققین کو خود اقرار ہے کہ ساری انجیل الہامی طور پر نہیں لکھی گئی بلکہ متی وغیرہ نے بہت سی باتیں اس کی لوگوں سے سن سن کر رکھی ہیں اور لوقا کی انجیل میں تو خو لوقا اقرار کرتا ہے کہ جن لوگوں نے میچ کو دیکھا تھا ان سے دریافت کر کے میں نے لکھا ہے۔ پس اس تقریر میں خود لوقا اقراری ہے کہ اس کی انجیل الہامی نہیں۔ کیونکہ الہام کے بعد لوگوں سے پوچھنے کی کیا حاجت تھی۔ اسی طرح مرقس کا مسیح کے شاگردوں میں سے ہونا ثابت نہیں۔ پھر وہ نبی کیونکر ہوا۔ بہر حال چاروں انجیلیں نہ اپنی صحت پر قائم ہیں اور حاشیه در حاشیه نمبر ۳