براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 394
روحانی خزائن جلد 1 ۳۹۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم قیه حاشیه نـ سمجھا جائے کہ جس طرح اس نے تمام چیزوں کو محض قدرت سے پیدا کیا تھا وہ بولیوں کی ہستی اور اس کی صفات کا ملہ اور عالم جزا سزا سے بکلی بے خبر رہتا ہے۔ پس چونکہ معرفت حقہ کی تعلیم کا اقتدار صرف کلام الہی میں ثابت ہے عقل میں ثابت نہیں۔ اس لئے ہر یک عاقل و ماننا پڑتا ہے کہ ایمان اور دین کی بنیاد کلام الہی ہے خیالات عقلیہ ہرگز بنیاد نہیں ہیں۔ اگر چہ استعداد عقلی نفس انسان میں موجود ہے مگر وہ استعداد بغیر رہبری کلام الہی کے ناکارہ ہے۔ جیسے استعداد بصارت آنکھوں میں موجود تو ہے مگر بغیر آفتاب کے کچھ چیز نہیں اور جس طرح آفتاب کی روشنی اپنے وجود کو بھی ثابت کرتی ہے اور آفتاب کے وجود کی طرف بھی رہبر ہے ۔ اسی طرح خدا کا کلام اپنی ذاتی روشنی اور صداقت اور بے مثل ہونے کی وجہ سے اپنا منجانب اللہ ہونا بھی ثابت کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی ہستی کی طرف بھی یقینی اور قطعی طور پر رہبر ہے۔ المتهم۔ پھر پنڈت صاحب نے پرچہ دھرم جیون جنوری ۱۸۸۳ء میں یہ دعوی کر دیا ہے کہ دانشمند انسان ایسی کتاب تالیف کر سکتا ہے کہ جو کمالات میں مثل قرآن شریف کے یا اس سے بڑھ کر ہو۔ اب چونکہ پنڈت صاحب بھی دانشمند ہی ہیں بلکہ اپنی قوم کے ریفارمر اور مصلح ہونے کا دم مارتے ہیں اس لئے یہ بار ثبوت انہیں کے ذمہ ہے کہ وہ ایسی کتاب تالیف کر کے دکھلا دیں اور جس طرح قرآن شریف با وجود کمال ایجاز جامع تمام حقائق و دقائق ہے اور جس طرح قرآن شریف با وجود التزام حق اور حکمت اور صداقت کے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر ہے اور جس طرح قرآن شریف اعلیٰ درجہ کی پیشین گوئیوں اور امور غیبیہ سے بھرا ہوا ہے اور جس طرح قرآن شریف اپنی پاک تا شیروں کی وجہ سے سچے طالبوں کے دلوں کو پاک کر کے آسمانی روشنی سے منور کرتا ہے اور ان میں وہ خاص برکتیں پیدا کرتا ہے کہ جو دوسرے مذہبوں میں نہیں پائی جاتیں جیسا کہ ہم نے ان سب باتوں کو اپنی کتاب میں ثابت کر دیا ہے اور کامل ثبوت دے دیا ہے۔ اسی طور اور شان کی کوئی اور کتاب تالیف کر کے پیش کریں۔ ندارد کسے باتو ناگفته کار و لیکن چو گفتی لیلش بیار لیکن ہم پنڈت صاحب پر ظاہر کرتے ہیں کہ کسی انسان کے لئے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ امور متذکرہ بالا کو جو طاقت انسانی سے بلند تر ہیں اپنے کلام میں پیدا کر سکے مگر خدا کے کلام میں