براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 391
روحانی خزائن جلد 1 ۳۸۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم دے دیا۔ پھر جس حالت میں اس ابتدائی زمانہ میں خدا کا سارا کام قدرتی پایا جاتا ۳۳۲ عالم ثانی کے واقعات اور صانع عالم کی ہستی اور اس صانع کی مرضیات اور غیر مرضیات اور جزا سزا کی کیفیات اور کمیات اور ارواح کے خلود اور بقا کے یقینی حالات معلوم کرنا یہ ایک ایسا باریک اور دقیق امر ہے کہ بجز ایک سماوی آلہ کے صحیح اور یقینی طور پر ہرگز معلوم نہیں ہو سکتا ۔ اور جس طرح عقل نے دنیا کے احسن انتظام کے لئے ہزار ہا آلات کی ضرورت ثابت کی ہے ۔ اسی طرح اس جگہ بھی عقل سلیم اس نا دیدہ عالم کا قطعی طور پر پتہ دریافت کرنے کے لئے ایک آسمانی آلہ کی ضرورت قرار دیتی ہے تا اس قادر مطلق کی ہستی جس کے سمجھنے میں لاکھوں عقلمندوں نے دھو کے کھائے ہیں یقینی اور قطعی طور پر معلوم ہو جاوے ۔ ۳۲۷ اور اسی طرح عالم جزا سزا بھی قطعی طور پر معلوم ہو تا طالب حق ظنیات سے ترقی کر کے اسی عالم میں حضرت باری تعالیٰ اور اس کی صفات کاملہ اور عالم آخرت کو بعین الیقین دیکھ لے ۔ اور وہ آلہ جو اس مرتبہ اعلیٰ یقین تک پہنچاتا ہے کلام الہی ہے جس کے ذریعہ سے انسان به یقین کامل خدائے تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کا ملہ اور عالم جزا سزا کو سمجھ لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ نے لاکھوں انسانوں کو اس مرتبہ معرفت تک پہنچا کر ثابت کر دکھایا ہے کہ یہ آلہ خدا شناسی کا فی الواقعہ دنیا میں موجود ہے ۔ اور جو شخص اس سے جو شخص اس سماوی آلہ سے روشنی حاصل نہیں کرتا وہ اس اندھے کی مانند ہے کہ جو ایک ایسی راہ میں چلتا ہے جس میں جا بجا خندقیں ہیں اور ہر یک طرف بڑے بڑے گڑھے ہیں اس کو کچھ خبر نہیں کہ سلامتی کی راہ کدھر ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ بچاؤ کی طرف کون سی ہے ۔ کچھ خبر نہیں کہ انجام قدم اٹھانے کا کیا ہے ۔ نہ آپ دیکھ سکتا ہے نہ کسی رہنما کا دامن پکڑا ہوا ہے اور نہ یہ جانتا ہے کہ آخر کس جگہ کا منہ دیکھنا نصیب ہے اور نہ یہ یقین ہے کہ جس مطلب کے لئے اس نے قدم اٹھایا ہے وہ مطلب ضرور حاصل ہو جائے گا ۔ بلکہ آنکھیں بھی اندھی ہیں اور دل بھی اندھا ہے۔ پھر ایک اور وسوسہ جو پنڈت صاحب کے دل کو پکڑتا ہے یہ ہے کہ الہامی کتاب