براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 310

روحانی خزائن جلد 1 ٣٠٨ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۷۷ کہ جس کسی شے کے کسی خاصہ کے وجود میں شک ہو تو اس کو اس قدر آ ز ما یا جاوے جس سے دلی اطمینان پیدا ہو جائے ۔ اور جو شخص بعد آزمائش ایک خاصہ کے کہ جو ایک شے میں پایا جاتا ہے پھر بھی یہ وہم کرے کہ کیوں یہ خاصہ اس شے میں پایا جاتا ہے تو وہ شخص حقیقت میں پاگل اور سودائی ہے ۔ مثلاً جب ایک شخص نے اگر اُس کے ساتھ ایک ایسا رفیق ملایا گیا کہ جو اس کو لغزشوں سے بچاوے اور پاؤں پھسلنے کی جگہ سے سنبھل رکھے تو کیا اس کے لئے اچھا ہو یا برا ہو اور کیا اس رفیق نے اس کو اپنے کمال مطلوب تک پہنچایا یا کمال مطلوب سے روک دیا۔ یہ کیسی کور باطنی ہے کہ معین اور مددگار کو مخالف اور مزاحم سمجھا جاوے اور مکمل اور ستم کور ہرن اور نقصان رساں قرار دیا جائے ۔ آپ لوگ جب اپنے حواس میں قائم ہو کر اور طالب حق بن کر اس مسئلہ میں غور کریں گے تو آپ پر فی الفور واضح ہو جائے گا کہ خدا نے جو عقل کا رفیق الہام کو ٹھہرا دیا ہے یہ معقل کے حق میں کوئی ضرر کی بات نہیں کی بلکہ اس کو سرگردان اور حیران پا کر حق شناسی کے لئے ایک یقینی آلہ عطا کیا ہے جس کی نشاندہی سے عقل کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ صد با کج اور ناراست راہوں میں بھٹکتے پھرنے سے بچ جاتی ہے اور سرگشتہ اور آوارہ نہیں ہوتی اور ہر طرف حیرانی سے بھٹکتی نہیں پھرتی بلکہ اصل مقصود کی خاص راہ کو پالیتی ہے اور جو ٹھیک ٹھیک گو ہر مراد کی جگہ ہے اس کو دیکھ لیتی ہے اور بیہودہ جانکنی سے امن میں رہتی ہے اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی سچا مخبر کسی گمشدہ شخص کا بدرستی تمام پتہ لگا دیوے کہ وہ فلاں طرف گیا ہے اور فلاں شہر اور فلاں محلہ اور فلاں جگہ میں چھپا ہوا بیٹھا ہے۔ سو ظاہر ہے کہ ایسے منبر پر جوکسی گمشدہ کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا دیتا ہے اور اس تک پہنچنے کا سہل اور آسان راستہ بتلا دیتا ہے کوئی با عقل آدمی یہ اعتراض نہیں کرتا کہ وہ ہماری کارروائی کا خارج ہوا ہے بلکہ اس کے بغایت درجہ ممنون اور شکرگزار ہوتے ہیں کہ ہم بے خبر تھے اس نے خبر دی اور ہم ہر طرف بھٹکتے پھرتے تھے اس نے خاص جگہ بتلا دی۔ اور ہم نری اٹکلیں دوڑاتے تھے اس نے یقین کا دروازہ ہم پر کھول دیا۔ ایسا ہی وہ لوگ جن کو خدا نے عقل سلیم بخشی ہے حقیقی الہام کے مرہوم منت بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ ۲۷۸) اسی سوال کے نیچے فرماتے ہیں۔ اب تو وہ متکلم دنیوی امور میں مستغرق ہے ورنہ یہ ثابت کر