براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 302

روحانی خزائن جلد 1 ٣٠٠ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۷۰ اب بھی اگر کوئی طالب حق اس معجزہ قرآنی کو بچشم خود دیکھنا چاہتا ہے تو ۲۷۱ بقیه حاشیه نمبر ا عقل اور الہام میں کوئی جھگڑا نہیں اور ایک دوسرے کا نقیض اور ضد نہیں اور نہ الہام حقیقی یعنی قرآن شریف عقلی ترقیات کے لئے سنگ راہ ہے بلکہ عقل کو روشنی بخشنے والا اور اس کا بزرگ معاون اور مددگار اور مربی ہے ۔ اور جس طرح آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روز روشن کے فوائد اہل بصارت ہی پر ظاہر ہوتے ہیں ۔ اسی طرح عشق حق کا پلا رہا ہے جام بحر حکمت ہے وہ کلام تمام بات جب اس کی یاد آتی ہے یاد سے ساری خلق جاتی ہے سینہ میں نقش حق جماتی ہے دل سے غیر خدا اٹھاتی ہے ۲۷۰ بقيه نيه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ درد مندوں کی ہے دوا وہی ایک ہے خدا سے خدا نما وہی ایک ہم نے پایا خور ہدی وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دلربا وہی ایک اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یونہی اک واہیات کہتے ہیں بات جب ہو کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اس دلستاں کا حال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں نہ سہی یوں ہی امتحان سہی اور چونکہ نور افشاں کے صاحب راقم نے اپنے سوال کے جواب کے لئے مجھ کو بھی بشمول اور چند صاحبوں کے مخاطب کیا ہے اور ہر چند ایسے تمام وساوس کی اس کتاب میں اپنے موقعہ پر بکلی بیخ کنی کر دی گئی ہے لیکن بوجہ مذکورہ بالا قرین مصلحت ہے کہ اس جگہ بھی بطور مختصر ان کے وہم کا ازالہ کیا جائے ۔ لہذا ذیل میں لکھا جاتا ہے :۔ جاننا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل خیال کرنا سراسر نقصان عقل اور کم فہمی ہے۔ خود حضرت مسیح نے انجیل کی تعلیم کو مبرا عن النقصان نہیں سمجھا جیسا کہ انہوں نے آپ فرمایا ہے کہ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح الحق آوے گا تو وہ تمہیں تمام صداقت کا راستہ بتلاوے گا۔ انجیل یوحنا باب ۱۶۔ آیت ۱۲ ۱۳ ۱۴۔ اب فرمائیے کیا یہی انجیل ہے کہ جو تمام دینی صداقتوں پر حاوی ہے جس کے ہوتے ہوئے قرآن شریف کی ضرورت نہیں۔ اے حضرات !! جس حالت میں آپ لوگ حضرت مسیح کی وصیت کے موافق انجیل کو کامل اور تمام صداقتوں کی جامع