براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 245

روحانی خزائن جلد 1 ۲۴۳ براہین احمد یہ حصہ سوم کمالات تا مہ اور اپنی جمیع صفات میں واحد لاشریک ہے ۔ اس سے مساوات کسی ﴿۲۹﴾ ، حاشیه نمـ مبر ذرہ امکان کی کیونکر جائز ہو اور کیونکر کوئی مخلوق ہو کر خالق کے علوم غیر متناہیہ سے الر تِلْكَ أَيْتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيمِ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں کہ جو جامع علوم حکمیہ ہے۔ کیا ۲۱۹ اكانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْ حَيْنَا إِلى لوگوں کو اس بات سے تجب ؟ سے تعجب ہوا کہ جو ہم نے ان میں سے رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ ایک کی طرف یہ وحی بھیجی کہ تو لوگوں کو ڈرا اور ان کو جو الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ ایمان لائے یہ خوشخبری دے کہ ان کے لئے ان کے رب رَبِّهِمْ قَالَ الْكُفِرُونَ إِنَّ هَذَا کے نزدیک قدم صدق ہے۔ کافروں نے اس رسول کی لَسْحِرٌ مُّبِينٌ ، وَقَالُوا يَاأَيُّهَا الَّذِی نسبت کہا کہ یہ تو صریح جادوگر ہے اور انہوں نے رسول کو نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ ۔ مخاطب کر کے کہا کہ اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا تو تو كَذَلِكَ مَا آتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ دیوانہ ہے ۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَو ایسا رسول نہیں آیا جس کو انہوں نے ساحر یا مجنون نہیں مَجْنُونُ اتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْم کہا۔ کیا انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت کر رکھی تھی۔ نہیں طَاغُوْنَ ۔ فَذَكِّرْ فَمَا أَنْتَ بِنِعْمَتِ بلکہ یہ قوم ہی طاغی ہے سو انہیں تو حق کا راستہ یاد دلاتا رہ۔ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا مَجْنُونٍ ٤٠ اور خدا کے فضل سے نہ تو کا ہن ہے اور نہ تجھے کسی جن کا قُل لَّيْنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنُّ آسیب اور دیوانگی ہے ۔ ان کو کہہ کہ اگر تمام جن اور آدمی کرنا مریم سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا ۔ حواریوں سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا خود قرآن شریف میں مندرج اور مرقوم ہے ۔ حالانکہ ان سب میں سے سے نہ نہ کوئی نبی تھا اور نہ کوئی رسول تھا ۔ اور اگر مولوی صاحب یہ جواب دیں کہ ہم اولیاء اللہ کے ملہم من الله ہونے کے قائل تو ہیں مگر اس کا نام الہام نہیں رکھتے بلکہ وحی رکھتے ہیں ۔ اور الہام ہمارے نزدیک صرف دل کے خیال کا نام ہے جس میں کافر اور مومن اور فاسق اور صالح مساوی ۲۲۰ ہیں اور کسی کی خصوصیت نہیں تو یہ صرف نزاع لفظی ہے اور اس میں بھی مولوی صاحب غلطی پر ہیں ۔ کیونکہ لفظ الہام کہ جو اکثر جگہ عام طور پر وحی کے معنوں پر اطلاق پاتا ہے۔ حاشیه در حاشیه نمبر ا ل يونس : ۲ ۲ الحجر - الذاريت : ۵۴۔۵۴ ۲ الطور : ۳۰