براہین احمدیہ حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 849

براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 196

۱۸۰ روحانی خزائن جلد 1 ۱۹۴ براہین احمدیہ حصہ سوم سے نکلے ہیں اُن کو تم اس لعاب کے برابر نہیں سمجھتے کہ جو مکھی کے منہ سے نکلتا ہے بقیه حاشیه نمبر نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وحی فرقان اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی ۔ ھنے طینت معادل محمدیہ کے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے۔ نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی ۔ بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔ اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال والجمال ہے اور اخلاق معتدلہ فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جو بمعیت عقل لطیف روغن ظهور روشنی وحی قرار پائی۔ ان کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے اِإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - الجزء نمبر ۲۹ یعنے تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنے اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا مستم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت من متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔ مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قد ر طول و عرض درخت میں ہو سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سے باہر ہو۔ اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسن اختلاط یا نرمی و تلطف و ملائمت ( جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مراد نہیں ہے بلکہ خلق بفتح خا اور خُلق بضم خاد و لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔ خلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور کی طرف سے عطا ہوئی ۔ جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔ اور خُلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنے خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔ پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن ما بہ الامتیاز ہیں ۔ اُن سب کا نام خلق ہے۔ اور چونکہ شجرۂ فطرت انسانی اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے۔ اور ہر یک افراط و تفریط سے جو قوی حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منزہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ القلم : ۵