براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 108
روحانی خزائن جلد 1 ١٠٦ براہین احمدیہ حصہ دوم مخالفوں کی کچھ بھی پیش نہ گئی۔ اور گوان بداندیشوں نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے۔ ایڑیاں رگڑیں ۔ مکاریاں اور عیاریاں دکھلائیں ۔ پر آخر مرغ گرفتار کی طرح پھڑ پھڑا کے رہ گئے ۔ پس جبکہ ہاتھوں سے ان مقدس لوگوں کا نقصان نہ ہو سکا تو صرف زبان کے ہتک آمیز الفاظ سے کب ہو سکتا ہے۔ یہ وہ برگزیدہ قوم ہے کہ جن کے اقبال کی انہیں کے زمانہ میں آزمائش ہو چکی ہے۔ وہ اقبال نہ بت پرستوں کے روکنے سے رکا اور نہ کسی اور مخلوق پرست کی مزاحمت سے بند رہا۔ نہ تلواروں کی دھار اس شان و شوکت کو کاٹ سکی ۔ نہ تیروں کی تیزی اس میں کچھ رخنہ ڈال سکی ۔ وہ جلال ایسا چمکا جو اس کا حسد کتنوں کا لہو پی گیا۔ وہ تیر ایسا برسا جو اس کا چھوٹا کئی کلیجوں کو کھا گیا ۔ وہ آسمانی پتھر جس پر پڑا اسے پیس ڈالتا رہا اور جو شخص اس پر پڑا وہ آپ ہی پیسا گیا۔ خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے وہ بنتی ہے ہوا اور ہر خس رہ کو اڑاتی ہے وہ ہو جاتی ہے آگ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے کبھی وہ خاک ہو کر دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے کبھی ہو کر وہ پانی ان پر اک طوفان لاتی ہے غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے خلاصہ اس کلام کا یہ ہے کہ اگر پنڈت صاحب وغیرہ معاندین و مخالفین کو دنیا اور قوم کی محبت کے باعث یا ننگ و ناموس کے سبب یا صفت حیا کی کمزوری کی وجہ سے خدا کی سچی کتابوں پر ایمان لانا منظور نہ ہو تو خیر یہ ان کی خوشی ۔ مگر ہم ان کو نصیحت کرتے ہیں جو ۱۱۵ زبان درازیوں سے باز رہیں جو اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا ۔ اور یہ فرض محال یہ بھی ہم نے تسلیم کیا جو خدا کے پاک پیغمبروں کا صدق ان کی عقل عجیب کے نزدیک ثابت نہیں سہی۔ مگر پھر بھی وہ شخص کہ جس کے دل میں کچھ خدا کا خوف یا لوگوں کے طعن سے ہی کچھ ڈر ہے۔ وہ اس بات کو ضرور تسلیم کرے گا کہ صدق کے عدم ثبوت سے کذب کا ثبوت لازم نہیں آتا ۔ کیونکہ مفہوم اس عبارت کا کہ زید کا سچا ہونا ثابت نہیں ۔ اس عبارت