برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 33

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳ بركات الدعاء روئی دلبر از طلبگاران نمی دارد حجاب میدرخشد در خورو می تابد اندر ماهتاب لیکن آن روئی حسین از غافلاں ماند نہاں عاشقی باید که بردارند از بهرش نقاب دامن پاکش زنخوت ها نمی آید بدست بیچ راهی نیست غیر از عجز و درد و اضطراب بس خطرناک است راه کوچه یار قدیم جاں سلامت بایدت از خودروی با سر بتاب تا کلامش فهم و عقل ناسزایاں کم رسد هر که از خود گم شود او یا بدان راه صواب مشکل قرآن نه از ابناء دنیا حل شود ذوق آن می داند آن مستی که نوشد آن شراب ایکہ آگاهی ندادندت از انوار دروں در حق ماہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب از سر وعظ و نصیحت این سخن ها گفته ایم تا مگر زین مرهمی به گردد آن زخمی خراب از دعا کن چاره آزار انکارِ دعا چون علاج می زمی وقت خمارو التهاب ایکہ کوئی گر دعا ها را اثر بودی کجاست سوئی من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب هان مکن انکار زین اسرار قدرت ہائی حق قصہ کو تہ کن بہ میں از ما دعائے مستجاب دیکھو صفحہ ۲-۳-۴ سرورق لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک اور خبر شخص آج ۲ / اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ ہے صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں ۔ اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اُس کے چہرے پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شدا دغلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اُس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا پوچھا کہ کہ یہ لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے تب میں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اور اس دو رام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کے ۔ کے لئے مامور کیا گیا ہے مگر مجھے معلو ہے مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے ہاں یہ یقینی طور پر یاد ہےکہ وہ دوسرا شخص انہیں چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت میں اشتہار دے چکا ہوں اور یہ یکشنبہ کا دن اور ۴ بجے صبح کا وقت تھا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ سرورق