برکاتُ الدُّعا — Page 12
روحانی خزائن جلد ۶ الم بركات الدعاء قبولیت اُسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادہ الہی اُس کے قبول کرنے کا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اپنے نظام جسمانی اور روحانی کو ایک ہی سلسلہ مؤثرات اور متاثرات میں باندھ رکھا ہے ۔ پس سید صاحب کی سخت غلطی ہے کہ وہ نظام جسمانی کا تو اقرار کرتے ہیں مگر نظام روحانی سے منکر ہو بیٹھے ہیں ! بالآخر میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر سید صاحب اپنے اس غلط خیال سے تو بہ نہ کریں اور یہ کہیں کہ دعاؤں کے اثر کا ثبوت کیا ہے ۔ تو میں ایسی غلطیوں کے نکالنے کے لیے مامور ہوں ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت سید صاحب کو اطلاع دوں گا ۔ اور نہ صرف اطلاع بلکہ چھپوا دوں گا مگر سید صاحب ساتھ ہی یہ بھی اقرار کریں کہ وہ بعد ثابت ہو جانے میرے دعوی کے اپنے اس غلط خیال سے رجوع کریں گے ۔ سید صاحب کا یہ قول ہے کہ گویا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ اُن کی سخت غلط فہمی ہے۔ اور یہ آیت ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ، اُن کے مدعا کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ یہ دعا جو آیت ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ " میں بطور امر کے بجالانے کے لئے فرمائی گئی ہے۔ اس سے مراد معمولی دعا ئیں نہیں ہیں بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کل دعا ئیں فرض میں داخل نہیں ہیں بلکہ بعض جگہ اللہ جل شانہ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو انا للہ پر ہی کفایت کرتے ہیں۔ اور اس دعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ اس کو عبادت کے لفظ سے یاد کر کے بحالت نافرمانی عذاب جہنم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے۔ ا، المؤمن : ٦١