برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 394

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۹۲ شهادة القرآن با رحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دین و دنیا کیلئے دلی جوش سے بہبودی اور سلامتی چاہیں تا ان کے گورے و سپید بقیہ کرنا اور ظلم کا دور کرنا تھا اور دینی جہاد انہیں ملکوں کے مقابلہ پر ہوئے تھے جن میں واعظین کو حاشیہ اپنے وعظ کے وقت جان کا اندیشہ تھا اور جن میں امن کے ساتھ وعظ ہونا قطعی محال تھا۔ اور کوئی شخص طریقہ حقہ کو اختیار کر کے اپنی قوم کے ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا لیکن سلطنت انگریزی کی آزادی نہ صرف ان خرابیوں سے خالی ہے بلکہ اسلامی ترقی کی بدرجہ غایت ناصر اور مؤید ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس خداداد نعمت کی قدر کریں اور اس کے ذریعہ سے اپنی دینی ترقیات میں قدم بڑھاویں۔ اور حصہ چہارم کے ابتدائی اوراق میں آپ فرماتے ہیں ۔ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سیوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حسن انتظام کے رو سے ترجیح ہو اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں۔ خوبی باعتبار اپنی ذاتی کیفیت کے خوبی ہی ہے گو وہ کسی گورنمنٹ میں پائی جائے الحكمة ضالة المؤمن الخ اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھاوے اس کے ظل حمایت میں بامن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلا وے اور اس کے سلوک اور مروت کا ایک ذرہ شکر بجا نہ لاوے بلکہ ہمارے خداوند کریم نے اپنے رسول مقبول کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ ہم نیکی کا معاوضہ بہت زیادہ نیکی کے ساتھ کریں اور منعم کا شکر بجالا ویں اور جب کبھی ہم کو موقعہ ملے تو ایسی گورنمنٹ سے بدلی صدق کمال ہمدردی سے پیش آویں اور بطیب خاطر معروف اور واجب طور پر