برکاتُ الدُّعا — Page 391
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۸۹ شهادة القرآن علم رکھتی ہے خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کیلئے ایک باران رحمت بھیجا ایسی سلطنت سے لڑائی اور ا جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا بقیہ بہم پہنچا کر سر کار میں بطور مدد کے نذر کئے اور اپنی غریبانہ حالت سے بڑھ کر خیر خواہی دکھلائی اور جو حاشیه مسلمان صاحب دولت و ملک تھے انہوں نے تو بڑی بڑی خدمات نمایاں ادا کیں۔ اب ہم پھر اس تقریر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ گو مسلمانوں کی طرف سے اخلاص اور وفاداری کے بڑے بڑے نمونہ ظاہر ہو چکے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کی بدنصیبی کی وجہ سے ان تمام وفاداریوں کو نظر انداز کر دیا اور نتیجہ نکالنے کے وقت ان مخلصانہ خدمات کو نہ اپنے قیاس کے صغری میں جگہ دی اور نہ کبری میں ۔ بہر حال ہمارے بھائی مسلمانوں پر لازم ہے کہ گورنمنٹ پر ان کے دھوکوں سے متاثر ہونے سے پہلے بے حد طور پر اپنی خیر خواہی ظاہر کریں جس حالت میں شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون | احسان ہوں اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی اور ہدایت پھیلانے کے لیے کامل مددگار ہو قطعی حرام ہے تو پھر بڑے افسوس کی بات ہے کہ علماء اسلام اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع نہ کر کے نا واقف لوگوں کی زبان اور قلم سے مورد اعتراض ہوتے رہیں جن اعتراضوں سے ان کے دین کی سستی پائی جائے اور ان کی دنیا کو ناحق ضرر پہنچے ۔ سو اس عاجز کی دانست میں قرین مصلحت یہ ہے کہ انجمن اسلامیہ لاہور و کلکتہ و بمبئی وغیرہ یہ بندو بست کریں کہ چند نا می مولوی صاحبان جن کی فضیلت اور علم اور زہد اور تقویٰ اکثر لوگوں کی نظر میں مسلم الثبوت ہو اس امر کے لئے چن لئے جاویں کہ اطراف اکناف کے اہل علم کو جو اپنے مسکن کے گرد نواح میں کسی قدر شہرت رکھتے ہوں اپنی اپنی عالمانہ تحریریں جن میں برطبق شریعت حقہ سلطنت انگلشیہ سے جو مسلمانان ہند کی مربی و حسن ہے جہاد کرنے کی صاف ممانعت ہو۔ ان علماء کی خدمت میں یہ ثبت مواہیر بھیج دیں کہ جو بموجب قرارداد بالا اس خدمت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جب سب خطوط جمع ہو جاویں تو یہ مجموعہ خطوط جو مکتوبات علماء ہند سے موسوم ہو سکتا ہے کسی خوشخط مطبع میں