برکاتُ الدُّعا — Page 337
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳۵ شهادة القرآن L اگر قرآن کے خطابات صحابہ تک ہی محدود ہوتے تو صحابہ کے فوت ہو جانے کے ساتھ قرآن باطل ہو جاتا اور آیت متنازعہ فیہا جو خلافت کے متعلق ہے درحقیقت اس آیت سے مشابہ ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا ، یا یہ بشری صحابہ سے ہی خاص تھا یا کسی ا اور کو بھی اس سے حصہ ہے ۔ اور معترض کا یہ کہنا کہ جو شخص اصلی معنوں سے جو خصوصیت مخاطبین ہے عدول کر کے اس کے معنے عموم لیوے اس کا ذمہ ہے کہ وہ دلیل یقینی سے اپنے عدول کو ثابت کرے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف معترض کو قرآن کریم سے بلکہ تمام الہی کتابوں کے اسلوب کلام سے کچھ بھی خبر نہیں مشکل یہ ہے کہ اکثر شتاب کار لوگ قبل اس کے جو پورے طور پر خوض کریں اعتراض کرنے کو طیار ہو جاتے ہیں ۔ اگر معترض صاحب کو صحیح نیت سے تحقیق کا شوق تھا تو وہ تمام ایسے موقعہ جہاں بظاہر نظر صحابہ مخاطب ہیں جمع کر کے دیکھتے کہ اکثر اغلب اور بلا قیام قرینہ قرآن شریف میں کیا محاورہ ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جو اکثر اغلب محاورہ ثابت ہوگا اسی کے موافق اصلی معنی ٹھہریں گے اور ان سے عدول کرنا بغیر قیام قرینہ جائز نہیں ہوگا ۔ اب ظاہر ہو کہ اصل محاورہ قرآن کریم کا خطاب حاضرین میں عموم ہے اور قرآن کا بن میں عموم ہے اور قرآن کا چھ سو حکم اسی بناء پر عام سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ صحابہ تک محدود سمجھا جائے پھر جو شخص عام محاورہ سے عدول کر کے کسی حکم کو صحابہ تک ہی محدود رکھے اس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہوگا کہ قرائن قویہ سے یہ ثابت کرے کہ یہ خطاب صحابہ سے ہی خاص ہے اور دوسرے لوگ اس سے باہر ہیں مثلاً الله جل شانۂ قرآن کریم میں بظاہر صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تم صرف خدا کی بندگی کرو اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد چاہو اور پاک سے چیزوں میں سے کھاؤ اور کسی قسم کا فساد مت کرو۔ اور تم زکوۃ اور نماز کو قائم کرو اور مقام ابراہیم سے جائے نماز ٹھہراؤ۔ اور خیرات میں ، دوسرے سے سبقت کرو اور مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا۔ اور میرا شکر کرو۔ اور مجھ ۴۰ سے دعا مانگو اور جو لوگ خدا کی راہ میں شہید ہوں ان کو مردے مت کہو اور جو تم کو سلام علیکم کرے اس کا نام کافر اور بے ایمان نہ رکھو۔ پاک چیزیں زمین کی پیداوار میں سے کھاؤ ایک یونس : ۶۵ A