برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 305

روحانی خزائن جلد ۶ ٣٠٣ شهادة القرآن ۔ نہ ہوتا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔ یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ اس مقدس معلم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدود نہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں اگر ایسا ہوتا تو پھر اسلام ایسا بگڑتا کہ کسی محدث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر چہ ائمہ حدیث نے دینی تو دینی تعلیم کی نسبت ہزار ہا حدیثیں لکھیں مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی حدیث ہے کہ جو ان کے لکھنے سے پہلے اُس پر عمل نہ تھا اور دنیا اس مضمون سے غافل تھی اگر کوئی ایسی تعلیم یا ایسا واقعہ یا ایسا عقیدہ ہے جو اس کی بنیادی اینٹ صرف ائمہ حدیث نے ہی کسی روایت کی بناء پر رکھی ہے اور تعامل کے سلسلہ میں جس کے کروڑ ہا افراد انسانی قائل ہوں اس کا کوئی اثر ونشان دکھائی نہیں دیتا اور نہ قرآن کریم میں اس کا کچھ ذکر پایا جاتا ہے تو بلا شبہ ایسی خبر واحد جس کا پتہ بھی سو ڈیڑھ سو برس کے بعد لگا یقین کے درجہ سے بہت ہی نیچے گری ہوئی ہوگی اور جو کچھ اس کی نا قابل تسلی ہونے کی نسبت کہو وہ بجا ہے لیکن ایسی حدیثیں در حقیقت دین اور سوانح اسلام سے کچھ بڑا تعلق نہیں رکھتیں بلکہ اگر سوچ کر دیکھو تو کر دیکھو تو ائمہ حدیث نے ایسی ۸ حدیثوں کا بہت ہی کم ذکر کیا ہے جن کا تعامل کے سلسلہ میں نام ونشان تک نہیں پایا جاتا۔ پس جیسا کہ بعض حض جاہل خیال کرتے ہے ہیں یہ بات ہر گز میچ نہیں ہے کہ دنیا نے دین کے صدہا ضروری م مسائل یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ بھی صرف امام بخاری اور مسلم وغیرہ کی احادیث سے سیکھے ہیں۔ کیا سوڈیڑھ سو برس تک لوگ بے دین ہی چلے آتے تھے کیا وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے زکوۃ نہیں دیتے تھے۔ حج نہیں کرتے تھے اور ان تمام اسلامی عقائد کے امور سے جو حدیثوں میں لکھے ہیں بے خبر تھے حاشا وکلا ہرگز نہیں اور جو کوئی ایسا خیال کرے اس کا حمق ایک تعجب انگیز نادانی ہے۔ پھر جبکہ بخاری اور مسلم وغیرہ ائمہ حدیث کے زمانہ سے پہلے بھی اسلام ایسا ہی سرسبز تھا جیسا کہ ان اماموں کی تالیفات کے بعد تو پھر یہ خیال کس قدر بے تمیزی اور نا سمجھی ہے کہ سراسر محکم کی راہ سے یہ اعتقاد کر لیا جائے کہ صرف دوسری صدی کی روایتوں کے سہارے سے اسلام کا وہ حصہ پھولا پھلا ہے جس کو حال کے زمانہ میں احادیث کہتے ہیں اور افسوس تو یہ کہ مخالف تو مخالف ہمارے مذہب کے بے خبر لوگوں کو بھی یہی دھوکا لگ گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گویا ایک مدت کے بعد صرف حدیثی روایات کے مطابق بہت سے مسائل اسلام کے ایسے لوگوں کو تسلیم کرائے گئے ہیں کہ جو ان حدیثوں کے قلم بند ہونے سے پہلے ان مسائل سے