برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxi of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxxi

میں اقرار کرتا ہوں کہ مسلمان ہو جاؤں گا۔‘‘ (سچائی کا اظہار۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۸۰) مباحثہ کی شرائط طے ہو چکیں۔مسلمانانِ جنڈیالہ نے بھی اپنی رضا <mark>من</mark>دی کا اظہار کر دیا لیکن پادری آتھم اور دیگر پادریوں کو ڈاکٹر <mark>کل</mark>ارک کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے <mark>من</mark>اظرہ <mark>من</mark>ظور کر لینا پسند نہ تھا۔چنانچہ شیخ نور احمد صاحب۱؂ مالک ریاض ہند پریس امرتسر اپنے رسالہ ’’نور احمد‘‘ صفحہ ۲۲ میں لکھتے ہیں کہ جب وہ اور مستری قطب الدین صاحب پادری عماد الدین صاحب کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے پہنچے۔’’کہ کون سے پادری صاحب ہیں جنہوں نے عیسائیوں کی طرف سے <mark>من</mark>اظرہ میں پیش ہونا ہے۔اور حضرت مرزا صاحب سے خط و کتابت شروع کر رکھی ہے۔کیا آپ اس <mark>من</mark>اظرہ میں بطور <mark>من</mark>اظر پیش ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ میں تو ایسے <mark>من</mark>اظروں کو فضول سمجھتا ہوں۔بھلا میں ایسا کیوں کرنے لگا۔اِس پر میں نے اُن کو جنڈیالہ کا واقعہ سنایا تو کہنے لگے ہنری مارٹن <mark>کل</mark>ارک لونڈا ہوگا۔‘‘ اور جب وہ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کے نمائندوں کو جو شرائط طے کرنے کے لئے حضورؑ نے امرتسر بھجوائے تھے ریلوے اسٹیشن سے ہی ڈاکٹر <mark>کل</mark>ارک کی کوٹھی پر لے کر پہنچے تو ڈاکٹر <mark>کل</mark>ارک صاحب اپنے اردلی کو برآمدے میں کرسیاں لگا دینے کا حکم دے کر خود دوسرے دروازے سے عبداﷲ آتھم کی کوٹھی پر گئے جو قریب ہی تھی۔اس عرصہ میں میاں محمد بخش صاحب پاندہ بھی جنڈیالہ سے پہنچ گئے تھے۔ڈاکٹر <mark>کل</mark>ارک نے آتھم صاحب سے جا کر کہا کہ ’’قادیان سے چند آدمی جلسہ <mark>من</mark>اظرہ کی شرائط اور تاریخ وغیرہ طے کرنے کے لئے آئے ہیں۔آپ چل کر تاریخ و شرائط وغیرہ طے کر لیں۔آتھم صاحب نے کانوں پر ۱؂ شیخ نور احمد صاحب کوبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ممبران سفارت میں شامل کیا تھا جو شرائط طے کرنے کے لئے حضورؑ کی طرف سے امرتسر گئے تھے اور شیخ صاحب موصوف ہی ڈاکٹر <mark>کل</mark>ارک سے وقت مقرر کرکے ممبران سفارت کوسٹیشن سے ہی اپنے ساتھ لیکر ڈاکٹر <mark>کل</mark>ارک کی کوٹھی پر پہنچے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مباحثہ کے لئے امرتسر تشریف لے گئے تھے تو پہلے آپ ہی کے مکان پرفروکش ہوئے تھے۔بعد میں حاجی محمود صاحب کی درخواست پر جو خان محمد شاہ صاحب مرحوم رئیس امرتسر کے داماد تھے کہ آپ ان کے مکان پر تشریف لے چلیں حضورؑ نے فرمایا کہ شیخ نور احمد صاحب سے اجازت لے لیں تو شیخ صاحب کے حاجی محمود صاحب کو اجازت دینے پر حضورؑ ان کے مکان پر تشریف لے گئے تھے۔امرتسر میں شیخ نور احمد صاحب ہی اس <mark>من</mark>اظرہ سے متعلقہ امور کو سرانجام دیتے تھے۔شمس