برکاتُ الدُّعا — Page 135
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۳۳ جنگ مقدس ڈپٹی صاحب یہ فرماویں کہ ہم نے ایک ذخیرہ کثیرہ پیشگوئیوں کا جو پیش کر دیا تو اس سے زیادہ کیا پیش کیا جاتا تو اس کے جواب میں افسوس سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پیشگوئیاں دلائل عقلیہ میں سے نہیں ہیں وہ تو ہنوز دعاوی کے رنگ میں ہیں جو اپنے ثبوت کے بھی محتاج ہیں چہ جائیکہ دوسری چیز کی مثبت ہوسکیں اور میں شرط کر چکا ہوں کہ دلائل عقلیہ پیش کرنی چاہییں ماسوا اس کے جس قدر پیش کیا گیا ہے حضرت مسیح اس کی تصدیق سے انکار کر رہے ہیں۔ اگرچہ میں اپنے کل کے بیان میں کسی قدر اس کا ثبوت دے چکا ہوں مگر ناظرین کی زیادت معرفت کی غرض سے پھر کسی قدر لکھتا ہوں کہ حضرت مسیح یوحنا باب بن میں ۳۷ تک صاف طور پر فرمارہے ہیں کہ مجھ میں اور دوسرے مقربوں اور مقدسوں میں ان الفاظ کی اطلاق میں جو بائبل میں اکثر انبیاء وغیرہ کی نسبت بولے گئے ہیں جو ابن الله ہیں یا خدا ہیں کوئی امتیاز اور خصوصیت نہیں۔ ذرا سوچ کر دیکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح پر یہودیوں نے یہ بات سن کر کہ وہ اپنے تئیں ابن اللہ کہتے ہیں یہ الزام لگایا تھا کہ تو کفر کہتا ہے یعنی کافر ہے اور پھر انہوں نے اس الزام کے لحاظ سے ان کو پتھراؤ کرنا چاہا اور بڑے افروختہ ہوئے ۔ اب ظاہر ہے کہ ایسے موقعہ پر کہ جب حضرت مسیح یہودیوں کی نظر میں اپنے ابن اللہ کہلانے کی وجہ سے کا فر معلوم ہوتے تھے اور انہوں نے اسکو سنگسار کرنا چاہا۔ تو ایسے موقعہ پر کہ اپنی بریت یا اثبات دعوی کا موقعہ تھا مسیح کا فرض کیا تھا ؟ ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اس موقعہ پر کہ کافر بنایا گیا حملہ کیا گیا سنگسار کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرنا مسیح کا کام تھا۔ اول یہ کہ اگر حقیقت میں حضرت مسیح خدا تعالیٰ کے بیٹے ہی تھے تو یوں جواب دیتے کہ یہ میرا دعویٰ حقیقت میں سچا ہے اور میں واقعی طور پر خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں اور اس دعوی کے ثابت کرنے کیلئے میرے پاس دو ثبوت ہیں ایک یہ کہ تمہاری کتابوں میں میری نسبت لکھا ہے کہ مسیح در حقیقت خدا تعالیٰ کا بیٹا ہے بلکہ خود خدا ہے ۔ قادر مطلق ہے۔ عالم الغیب ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اگر تم کو شبہ ہے تو لاؤ کتابیں پیش کرو میں ان کتابوں سے اپنی خدائی کا ثبوت تمہیں دکھلا دوں گا۔ یہ تمہاری غلط فہمی اور کم تو جہی