ایّام الصّلح — Page 296
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۶ ايام الصلح کروٹ بدلے گی ۔ تماشا بینوں کی طرح یہ خیال نہیں رکھنا چاہیے کہ یکدفعہ دنیا اُلٹ پلٹ ہو جائے گی بلکہ جس طرح پر کھیت اور درخت بڑھتے ہیں ایسا ہی ہوگا ۔ !!! یاد رہے کہ جس مسیح یعنی روحانی برکات والے کی مسلمانوں کو آخری زمانہ میں بشارت دی گئی ہے اُسی کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دجال معہود کو قتل کرے گا۔ لیکن یہ قتل تلوار یا بندوق سے نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دجالی بدعات اس کے زمانہ میں نابود ہو جائیں گی ۔ حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجال شیطان کا نام ہے پھر جس گروہ سے شیطان اپنا کام لے گا اُس گروہ کا نام بھی استعارہ کے طور پر دجال رکھا گیا کیونکہ وہ اُس کے اعضاء کی طرح ہے۔ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے لَخَلْقُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ یعنی انسانوں کی صنعتوں سے خدا کی صنعتیں بہت بڑی ہیں یہ اشارہ ان انسانوں کی طرف ہے جن کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں بڑی بڑی صنعتیں ایجاد کریں گے اور خدائی کاموں میں ہاتھ ڈالیں گے۔ اور مفسرین نے لکھا ہے کہ اس جگہ انسانوں سے مراد دجال ہے اور یہ قول دلیل اس بات پر ہے کہ دجال معہود ایک شخص نہیں ہے ورنہ ناس کا نام اُس پر اطلاق نہ پاتا۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ ناس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے سو جو گروہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دجال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ اسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کے سے شروع کیا گیا اور اس آیت پر ختم کیا گیا ہے۔ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۔ پس لفظ ناس سے مراد اس جگہ بھی دجال ہے ۔ ماحصل اس سورۃ کا یہ ہے کہ تم دجال کے فتنہ سے خدا تعالیٰ کی پناہ پکڑو۔ اس سورۃ سے پہلے سورۃ اخلاص ہے جو عیسائیت کے اصول کے رڈ میں ہے ۔ بعد اس کے سورۃ فلق ہے جو ایک تاریک زمانہ اور عورتوں کی مکاری کی خبر دے رہی ہے اور پھر آخر ایسے گروہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو شیطان کے زیر سا یہ چلتا ہے اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شیطان کہا ہے المؤمن : ۵۸ ۲ الفاتحة : ٢ ٣ الناس: ٧،٦