ایّام الصّلح — Page 252
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۲ ايام الصلح اُٹھانے کا لفظ بولا گیا ہے۔ ایسے استعارات لطیفہ خدا تعالیٰ کی کلام میں بہت ہیں جن میں روحانیت کو جسمانی رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ میں یہ چار صفات عظیمہ ہیں جن پر ہر ایک مسلمان کو ایمان لانا چاہئیے اور جو شخص دعا کے ثمرات اور فیوض سے انکار کرتا ہے گویا وہ بجائے چار صفتوں کے صرف تین صفتوں کو مانتا ہے۔ اب واضح رہے کہ اللہ جل شانہ نے سورۃ فاتحہ میں الحمد اللہ کے بعد ان صفات اربعہ کو چار سر چشمہ فیض قرار دے کر اس سورۃ کے مابعد کی آیتوں میں بطور لت ونشر مرتب ہر ایک چشمہ سے فیض مانگنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ فقرہ الْحَمْدُ لِلهِ سے فقرہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک پانچ جدا جدا امر ہیں ۔ (۱) الْحَمْدُ لِلَّهِ (۲) دوسرے رَبِّ الْعُلَمِينَ (۳) تیسرے الرَّحْمَنِ (۴) چوتھے اَلرَّحِيمِ (۵) مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ اور مابعد کے ۲۴ پانچ فقرے ان پانچوں کے لحاظ سے بصورت لف و نشر مرتب ان کے مقابل پر واقع ہیں ۔ جیسا کہ فقره إِيَّاكَ نَعْبُدُ فقره الْحَمْدُ لِلَّهِ کے مقابل پر ہے۔ جس سے یہ اشارہ ہے کہ عبادت کے لائق وہی ذات کامل الصفات ہے جس کا نام اللہ ہے اور فقرہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ فقرہ رَبِّ الْعَلَمِينَ کے مقابل پر واقع ہے جس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ سر چشمہ ربوبیت سے جو ایک نہایت عام سر چشمہ ہے ہم مدد طلب کرتے ہیں کیونکہ بغیر خدا تعالیٰ کے فیض ربوبیت کے ظاہری یا باطنی طور پر نشو و نما پانا یا کوئی پاک تبدیلی حاصل کرنا اور روحانی پیدائش سے حصہ لینا امر محال ہے۔ اور فقرہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ فقرہ الرحمن کے مقابل پر واقع ہے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا ورد کرنے والا الرحمن کے چشمہ سے فیض طلب کرتا ہے ۔ کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق نہیں ہے بلکہ محض رحمانیت الہی سے یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔ اور فقرہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فقره الرَّحِیمِ کے مقابل پر واقع ہے۔ اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا ورد کرنے والا چشمہ الرّحیم سے فیض طلب کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے دعاؤں کو رحم خاص سے قبول کرنے والے ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی راہ ہمیں دکھلا جنہوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے