ایّام الصّلح — Page 196
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۶ كشف الغطاء یسوع کا نام جیزس کے لفظ کی طرح اختلاط زبان کی وجہ سے یوز آسف ہو گیا۔ چوتھی شاخ یہ ہے کہ ان دعووں کے بعد قوم کے علماء نے میرے ساتھ کیا برتاؤ کیا ؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے دعوئی مسیح موعود کو سن کر اور اس بات سے اطلاع پا کر کہ میں ان کے اس مہدی کے آنے سے منکر ہوں جس کی نسبت بہت سے وحشیانہ قصے انہوں نے بنا رکھے ہیں اور زمین پر خون کی ندیاں بہانے والا اس کو مانا گیا ہے ان مولویوں میں سے ایک شخص محمد حسین نامی نے جو ایڈیٹر رسالہ اشاعة السنه اور ساکن بٹالہ ضلع گورداسپورہ ہے میرے پر ایک کفر کا فتویٰ لکھا اور بہت سے مولویوں کے اس پر دستخط کرائے اور مجھے کافر اور دجال ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ یہ فتوی ۱۵﴾ دیا گیا کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور ان کا مال لوٹ لینا جائز اور ان کی عورتوں کو جبراً اپنے قبضہ ☆ میں لے کر ان کے ساتھ نکاح کر لینا یہ سب باتیں درست ہیں بلکہ موجب ثواب ہیں ۔ چنانچہ اشتہار مورخه ۲۹ رمضان ۱۳۰۸ مطبوعہ مطبع حقانی لودیا نہ اور رسالہ سیف مسلول مطبوعہ مطبع ایجرٹن پریس راولپنڈی کی پشت پر جو محمد حسین کی تحریک سے لکھے گئے ہیں یہ دونوں فتوے موجود ہیں مگر جب کہ رعب گورنمنٹ انگریزی سے ان فتووں پر عملدرآمد نہ ہو سکا تو محمد حسین نے ایک اور تدبیر سوچی کہ اس شخص کو نہایت سخت گالیوں اور دل آزار کلمات سے ہمیشہ رنج دینا چاہیے۔ جیسا کہ اس نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ مطبوعہ ۱۸۹۸ء میں کئی جگہ اس بات کا خود اظہار کیا ہے۔ اس قسم کی گالیوں اور بد زبانیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے ایک چالاک شخص کو جس کا نام محمد بخش جعفر زٹلی ہے اور لاہور میں رہتا ہے مقرر کیا اور ہر ایک قسم کے گندے اشتہار خود لکھ کر اس کے نام پر چھپوائے ۔ نوٹ ۔ محمد حسین بٹالوی کا اصل مذہب یہی ہے کہ مہدی لڑائیاں کرنے والا آنے والا ہے مگر وہ گورنمنٹ کو محض جھوٹ کے طور پر یہ کہتا ہے کہ ایسے مہدی کا میں قائل نہیں ہوں حالانکہ وہ بارہا ظاہر کر چکا ہے کہ قائل ہے اگر گورنمنٹ دوسرے مولویوں کو جمع کر کے پوچھے کہ یہ شخص ان کے پاس مہدی کی نسبت کیا عقائد بیان کرتا ہے تو جلد ثابت ہو جائے گا کہ یہ شخص گورنمنٹ کو کیا کہتا ہے اور اپنے بھائیوں یعنی دوسرے علماء کو مہدی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ منہ دیگر اشاعة السنه نمبر ۵ جلد ۱۸ صفحه ۱۴۶ و ۱۵۴ و ۱۵۵ - منه