ایّام الصّلح — Page 165
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۶۵ را از حقیقت بقیه حاشيه میں نے تو اُس کی زندگی میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر میں کا ذب ہوں تو میں پہلے مروں گا۔ ورنہ میں آتھم ۱۳ کی موت کو دیکھوں گا سوا گر شرم ہے تو آتھم کو ڈھونڈ کر لاؤ کہ کہاں ہے۔ وہ میری عمر کے قریب قریب تھا اور عرصہ تین برس سے مجھ سے واقفیت رکھتا تھا۔ اگر خدا چاہتا تو وہ تمہیں برس تک اور زندہ رہ سکتا تھا۔ پس یہ کیا باعث ہوا کہ وہ انہی دنوں میں جب کہ اُس نے عیسائیوں کی دلجوئی کے لئے الہامی پیشگوئی کی سچائی اور اپنے دلی رجوع کو چھپایا خدا کے الہام کے موافق فوت ہو گیا ۔ خدا اُن دلوں پر لعنت کرتا ہے جو سچائی کو پا کر پھر اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اور چونکہ یہ انکار جو اکثر عیسائیوں اور بعض شریر مسلمانوں نے کیا خدا تعالیٰ کی نظر میں ظلم صریح تھا اس لئے اُس نے ایک دوسری عظیم الشان پیشگوئی کے پورا سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے۔ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ انہی قدرتوں سے وہ پہچانا گیا ہے۔ دیکھو کیسے عمدہ معنے اس آیت کے ثابت ہوئے کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ یعنی قتل کرنا اور صلیب سے مسیح کا مارنا سب جھوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور مسیح خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق صلیب سے بچ کر نکل گیا ۔ اور اگر انجیل کو غور سے دیکھا جائے تو انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے۔ کیا مسیح کی تمام رات کی دردمندانہ دعا رد ہو سکتی تھی ۔ کیا مسیح کا یہ کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبر میں رہوں گا اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ مردہ قبر میں رہا۔ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں تین دن مرا ر ہا تھا۔ کیا پیلاطوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشا نہیں معلوم ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچالے۔ ایسا ہی مسیح کا جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھائے جانا اور شام سے پہلے اتارے جانا اور رسم قدیم کے موافق تین دن تک صلیب پر نہ رہنا اور ہڈی نہ توڑے جانا اور خون کا نکلنا کیا یہ تمام وہ امور نہیں ہیں جو بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے ۔ بھلا مقبول کی ایسی دعا جو تمام رات رو رو کر کی گئی کب رد ہو سکتی تھی ۔ پھر مسیح کا صلیب کے بعد حواریوں کو ملنا اور زخم دکھلانا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا ۔ اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو بھلا اب مسیح کو پکا رو کہ تمہیں آکر مل جائے جیسا کہ حواریوں کو ملا تھا۔ غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب سے جان بچائی گئی اور وہ اس ملک ہند میں آئے ۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان ہی ملکوں میں آگئے تھے جو آخر کار مسلمان ہو گئے اور پھر اسلام کے بعد بموجب وعدہ توریت کے اُن میں کئی بادشاہ بھی ہوئے ۔ اور یہ ایک دلیل صدق نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ ا النساء : ۱۵۸