ایّام الصّلح — Page 137
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۷ نجم الهدى ثم جعل يُخبر قومه کالفرحین پھر اپنی قوم کو خوش خوش خبر دیتا پھرا اور بتلاتا پھرا المبشرين، وينادى أنه ارتد من دين كه به شخص مسلمان ہو گیا تھا پھر ہندو دین قبول المسلمين۔ وأكل معه وتغدى، وما کرنے کے لئے آیا ہے۔ اور وہ شخص اس سے اپنا درى أنه سيتردى، وكان هو يُخفى مولد چھپاتا رہا تا اس کے گھر کی اطلاع نہ ہو مولده ومنبعه، لكى يُجهل مربعه اور وہ شہر میں چھپا چھپا پھرتا تھا اور اس کا قرارگاہ وكان يسير في المصر مواريًا عن کسی کو معلوم نہ تھا یہاں تک کہ لیکھرام کے اجل الخلق عيانه و مخفيا مقره و مكانه مقدر کا دن پہنچ گیا۔ اور یہ شخص اُس دن اُس کی حتى انتهى الأمر إلى يوم موعود عین غفلت کے وقت دوستوں کی طرح اُس کے فدخل عليه على غرارته كمحب و پاس گیا اور اس کو اس قدر مہلت دی کہ جس میں ودود۔ وأمهله ريثما يصفوا الوقت حاضر باشوں سے فراغت ہو جائے اور جو ملنے من الحضار، ويذهب من جاء من کے لئے آئے ہیں وہ چلے جائیں ۔ جب اس الزوار۔ ثم سطا عليه كرجل کے لئے فرصت کا وقت نکل آیا اور لیکھرام کو اس فاتک کميش الهيجاء ، وجنبه نے غفلت میں پایا تب یکدفعہ اُس پر ایک بسكين بلغ إلى الأحشاء ، و چابک دست انسان کی طرح حملہ کیا اور کارد او مژده با بداد که این دین اسلام پذیرفته بود حالیا آمده است که دیگر کیش ہنود را قبول نماید ۔ و آں کس مولد خود را بروی پوشیده داشت و در شهر نهان و پوشیده میزیست حتی احدے آگاہ از قرارگاهش نبود۔ تا این که لیکھر ام را اجل مقدر فرا رسید - آں کس م را اجل مقدر فرا رسید - آن کس در زی دوستان اور روزے علی الغفلہ در پیش وے برفت و در انتظار آن نشست که مجلس از حاضران بپرداز دو عسل از غوغائے مگس مامون گردد۔ چوں وقت فرصت بدست آمد ولیکرام را غافل یافت بیک ناگه چون شیر گرسنه بروی برجست و با کارد تیز شکمش را