ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 550

ایّام الصّلح — Page 125

روحانی خزائن جلد ۱۴ الله نجم الهدى أو يأخذ مني إقرار العجز عند هذه جب تک کہ بعض نشان نہ دیکھے اور یا جب تک السؤالات۔ وأصر على أن يؤانس آی کہ مجھ سے اقرار عجز نہ لے لیوے اور اس نے الله أمام ارتحاله، وكان جهولا غير اصرار کیا کہ اپنے جانے سے پہلے نشان دیکھے ۔ متأدب في مقاله۔ فطفق يبلطنى لرؤية اور وہ ایک جاہل بے ادب تھا ۔ پس اس نے الآية، ويخجأني من العماية، فإنه كان مجھے نشان کے لئے دق کرنا شروع کیا اور نا بینائی جسدا له خوار، وما أعطى له روح کی وجہ سے اصرار کرتا تھا کیونکہ وہ جسم بے جان فراسة ولا افتكار۔ وكان احتكاء فی تھا جس کو عقل کی روح نہیں دی گئی تھی اور اس جنانه أن هذا الرجل كاذب في بيانه كے دل میں یہ بیٹھ گیا تھا کہ یہ شخص اپنے بیان وكذالك انتقش في قلبه من خدع میں جھوٹا ہے اور یہ باتیں اس کے ہم صحبتوں نے أعوانه، وحمـئـت بهم بئر عرفانه اس کے دل میں بٹھائی تھیں جن سے اُس کی ووافاني ذات المرار، فألح على شناخت کا کنواں مکدر ہو گیا تھا اور وہ ایک وأبلط بكمال الإصرار، ونظر إلى دن میرے پاس آیا اور نشان کے دیکھنے کے شزرًا بالاستكبار، وقال إني لن أفارق لئے بڑا اصرار کیا اور میری طرف تکبر قادیان بیروں نخواهم شد یا داغ اعتراف بعجز بر ناحیه شما خواهم گزاشت و بر این اصرار ورزید که لا بد است که قبل از رفتن از این جانشا نے مشاہدہ نماید ۔ و آں شخصی بود از حلیہ ادب عاری۔ واز نهایت شوخی و خیرگی دست استبداد بد امن من زد چه او حقیقت کا لبد بے روان بود که روح خرد در وے ندمیده بودند و گمان وے آن بود که من تار و پود دروغ بر بافته استم ۔ و این اعتقاد نسبت به من بعضی از هم مشر بانش خاطر نشان کردند ۔ لہٰذا چشمہ شناخت وے مکدر گردید۔ خلاصہ عادتا روزی پیش من آمد و جهت رویت نشانی اصرار از حد بگذرانید و در من با دیده استکبار و استحقار