ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 550

ایّام الصّلح — Page 87

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۸۷ نجم الهدى تعنى المنتظرون لأجل المسيح مسیح کی انتظار کرتے کرتے لوگوں نے بہت رنج النازل، وديسوا تحت النوازل اٹھایا ہے اور حوادث کے نیچے کچلے گئے ہیں اور انتظار کرتے کرتے لوگوں کی آنکھیں پک گئیں وارمدت عين المنتظرين ۔ أيها اے بزرگو! اور شریفو! خدا تم پر رحم کرے اور اپنے السادات والشرفاء ! رحمكم الله پاس سے تمہیں روشنی عطا فرمادے ۔ نظر کرو اور وأتاكم منه الضياء۔ انظروا وكرّروا دوبارہ دیکھو اور خوب غور کرو۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کا النظر وأمعنوا أليس من وعد الله أن وعدہ نہیں ہے کہ وہ مسیح موعود کو صلیبی زلزلوں ينزل المسيح عند الزلازل الصليبية، فيقبل کے وقت میں نازل کرے گا اور پھر وہ مسلمانوں على المسلمين إقبال الرحمة والنصرة پر رحمت اور مدد کے ساتھ متوجہ ہوگا اور اپنی عطا ان پر پوری کرے گا اور اپنے قول کی سچائی ظاہر فرمائے گا اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ پادری لوگ کیونکر اپنے مقاصد پر کامیاب ہو غلبوا عـلـى أمـورهـم، وقلبوا الأرض گئے ہیں اور زمین کو اپنے ظہور کے ساتھ زیروز بر بظهورهم۔ وطال عليهم الأمد، کر دیا ہے۔ اور ان کی کارروائی پر بڑی مدت فأين ذهب ما وعد الصدوق الصمد ؟ گزرگئی ہے پس اس سچے خدا کا وعدہ کہاں گیا ويجزل لهم الله طوله ويتم قوله بالفضل والمنة؟ وتعلمون أن القسوس كيف مردم در انتظار مسیح زحمتها کشیده و در زیر بلا با پائمال گردیده و چشمها در راهش سفید گشته اند ۔ بزرگان و کلانان خدا نظری در شما بکند و نورے به شما به بخشد - اندیشه بفرمائید و سگالشها در کار بکنید آیا وعده الهی نبوده که مسیح را در هنگام قوه صلیب فرود دفرستند و رحم و فضلش یا رو یا ور مسلمانان بگردد و نعمت خود را برایشان اتمام کند و راستی گفتار خود را بظهور بیارد - بر شما پوشیده نخواهد بود که کشیشان در کار خود کامیاب و شاد کام گردیده و زمین را بظهور خود زیروز بر نموده اند و مدتی در از ابقا بر کار روائی انها شده اکنون چه شد وعدہ آں خدائے صادق ۔