آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 357

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۵۷ آسمانی فیصلہ چھوڑے گا اور نہ اپنی تائید سے دستکش ہوگا بلکہ جیسا کہ اس کے پاک وعدے ہیں وہ ضرور اپنے وقتوں پر نشان تازہ بتازہ دکھاتا رہے گا جب تک کہ وہ اپنی حجت کو پوری کرے اور خبیث اور طیب میں فرق کر کے دکھلاوے اس نے آپ اپنے مکالمہ میں اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا اور میں کبھی امید نہیں کر سکتا کہ وہ حملے بغیر ہونے کے رہیں گے گوان کا ظہور میرے اختیار میں نہیں ۔ میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں سچا ہوں پیارو! یقیناً سمجھو کہ جب تک آسمان کا خدا کسی کے ساتھ نہ ہو ایسی شجاعت کبھی نہیں دکھاتا کہ ایک دنیا کے مقابل پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور ان باتوں کا دعوی کرے جو اس کے اختیار سے باہر ہیں جو شخص قوت جو شخص قوت اور استقامت کے ساتھ ایک دنیا کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے کیا وہ آپ سے کھڑا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اس ذات قدیر کی پناہ سے اور ایک غیبی ہاتھ کے سہارے سے کھڑا ہوتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام زمین و آسمان اور ہر ایک روح اور جسم ہے سو آنکھیں کھولو اور سمجھ لو کہ اس خدا نے مجھ عاجز کو یہ قوت اور استقامت دی ہے جس کے مکالمہ سے مجھے عزت حاصل ہے اسی کی طرف سے اور اسی کے کھلے کھلے ارشاد سے مجھے یہ جرات ہوئی کہ میں ان لوگوں کے مقابل پر بڑی دلیری اور دلی استقامت سے کھڑا ہو گیا جن کا یہ دعوی ہے کہ ہم مقتدا اور شیخ العرب والنجم اور مقرب اللہ ہیں جن میں وہ جماعت بھی موجود ہے جو اہم کہلاتی ہے اور الہی مکالمہ کا دعویٰ کرتی ہے اور اپنے زعم میں الہامی طور پر مجھے کافر اور جہنمی ٹھہرا چکے ہیں سو میں ان سب کے مقابل پر باذنہ تعالیٰ میدان میں آیا ہوں تا خدائے تعالیٰ صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھاوے اور تا اس کا ہاتھ جھوٹے کو تحت الثر کی تک پہنچاوے اور تا وہ اس شخص کی نصرت اور تائید کرے جس پر اس کا فضل و کرم ہے۔ سو بھائیو دیکھو کہ یہ دعوت جس کی طرف میں میاں نذیر حسین صاحب اور ان کی جماعت کو بلاتا ہوں یہ در حقیقت مجھ میں اور ان میں کھلا کھلا فیصلہ کرنے والا طریق ہے سو میں اس راہ پر کھڑا ہوں اب اگر ان علماء کی نظر میں ایسا ہی کافر اور دجبال اور مفتری اور شیطان کا رہ زدہ ہوں تو میرے مقابل پر انہیں کیوں تامل کرنا چاہئے کیا انہوں نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا کہ عند المقابلہ نصرت الہی مومنوں کے ہی شامل حال ہوتی ہے اللہ جل شانۂ قرآن کریم میں مومنوں کو فرماتا ہے وَ لَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ لا یعنی اے مومنو مقابلہ سے ہمت مت ہارو اور کچھ اندیشہ مت کرو اور انجام کار آل عمران : ۱۴۰