آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 306

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۰۶ الحق مباحثہ دہلی ۱۷۲) یہ ہے کہ آپ نے نہ صرف ایک تفسیر ابن جریر کی عبارت و اقوال بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اور وہ بھی بطور شک کے جس پر ان دلالت کرتا ہے نقل کر کے عوام الناس کو یہ جتانا چاہا ہے کہ تمام مفسرین اور عامہ صحابہ و تابعین مسئلہ حیات مسیح میں جو اس آیہ لیؤمنن به قبل موتہ کو قطعی الدلالت نہیں کہتے محض غلطی اور باطل پر ہیں نعوذ باللہ منہ اور مع هذا یہ بھی جتلانا چاہا ہے کہ وہ سب مرزا صاحب کے مخالف اور ہمارے موافق ہیں اور یہ محض مغالطہ ہے کوئی صحابی کوئی تابعی کوئی مفسر اس بات کا قائل نہیں ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی حیات اس آیہ سے بطور قطعی الدلالت کے ثابت ہوتی ہے اور ابن جریر اور ابن کثیر کا مطلب بھی یہ نہیں ۔ ہاں البتہ انہوں نے اپنی رائے کو ترجیح دے کر یہ تقول مسامحتا کر دیا ہے کہ یہ رائے دلیل قاطع سے ثابت ہے چنانچہ اب جناب سے اسی دلیل قاطع کا مطالبہ ہے اگر موجود ہو تو بیان فرمائی جاوے چوتھی مثال آپ کا عوام الناس کو یہ جتانا ہے کہ نون لیؤمنن کو باوجودلام تاکید کے التزاماً خالص استقبال کیلئے ٹھہرانا تمام صحابہ و مفسرین کا مذہب ہے جو سراسر آپ کا دھوکا و مغالطہ ہے آپ کی اس قسم کی باتوں کا میں تین دفعہ جواب ترکی بتر کی دے چکا آئندہ بھی اگر یہی طریق جاری رہا تو اس سے آپ کو تو یہ فائدہ ہوگا کہ اصل بات مل جاوے گی اور آپ کی اتباع میں آپ کی جواب نویسی ثابت ہو جاوے گی مگر اس میں مسلمانوں کا یہ حرج ہوگا کہ ان پر نتیجہ بحث ظاہر نہ ہوگا اور آپ کا اصل حال نہ کھلے گا کہ آپ لا جواب ہو چکے ہیں اور اعتقاد حیات مسیح میں خطا پر ہیں اور بات کو ادھر اُدھر لے جا کر ٹلا رہے ہیں لہذا آئندہ آپ کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر بحث منظور اور الزام فرار سے احتراز مد نظر ہے تو زائد باتوں کو چھوڑ کر میری اصل بات یعنی وفات مسیح پر دلیل قطعی قائم کرنے میں کلام و بحث کو محدود و محصور کریں اور جو میں نے یہ شہادت قواعد نحویہ اجماعیه و باستدلال قواعد علم بلاغت واصول حدیث واصول فقہ و سائر علوم درسیہ رسمیہ کے مضمون آیت کا زمانہ استقبال کیلئے مخصوص نہ ہونا اور بصورت صحت تحقق اس مضمون کا وقت نزول سے مخصوص نہ ہونا ثابت کیا ہے اس کا جواب در صورت عدم تسلیم قواعد نحو یہ اجماعیہ و علم بلاغت وغیرہ کے دو حرفی یہ دیں کہ تمام قواعد نحوی و قواعد علم بلاغت وغیرہ بے کاروبے اعتبار ہیں یا خاص کر یہ قاعدہ یعنی صیغہ مستقبل کا واسطے دوام تجددی کے آنا غلط ہے اور اس کو فلاں شخص امام فن نے غلط قرار دیا ہے اور اس کی غلطی پر قرآن یا حدیث صحیح یا اقوال عرب عرباء اء سے سے یہ یہ دلیل د ہے اور بجائے بجائے اس اس ۔ کے قاعدہ صحیحہ فلاں ہے یا یا یہ کہ فہم معنے قرآن کیلئے کوئی قاعده علم بلاغت و علم اصول فقه و علم اصول حدیث وغیرہ کا مقرر نہیں ہے جس ☆ خط کشیدہ عبارت ۱۸۹۲ ء ایڈیشن میں موجود ہے جبکہ ۱۸۹۵ء کے ایڈیشن میں سہو کتابت سے نقل ہونے سے رہ گئی ہے۔ (ناشر)