آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 299

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۹۹ الحق مباحثہ دہلی کرنا کسی معنے قراءت متواترہ کا جیسا کہ تمام مفسرین محققین نے کیا ہے درست نہیں ہے اب تھوڑی سی (۱۶۹ گزارش اور ہے کہ عتاب بن بشیر سے بخاری۔ ابوداؤد۔ ترمذی۔ نسائی نے تخریج کی ہے جیسا کہ تقریب میں بھی لکھا ہے کیا جناب کے نزدیک یہ عتاب ساقط الاعتبار ہے۔ آگے رہا خصیب جن محدثوں نے اس سے تخریج کی ہے اس کو میں ابھی نہیں لکھتا کیونکہ تقریب میں بھی اس کے ترجمہ میں اس مقام پر کچھ پر کچھ نہیں لکھا دیکھ رہا ہوں کہ آ دیکھ رہا ہوں کہ آپ عتاب کی نسبت کیا جواب دیتے ہیں یا اس ناچیز پر عتاب ہی عتاب فرماتے ہیں ۔ قولہ عموماً یہ بات غلط ہے ۔ اقول اس اسناد کی رواۃ میں علل ظاہرہ تو جناب والا بیان فرما چکے لیکن علل خفیہ غامضہ سے اطلاع نہ فرمائی ۔ شائد اس واسطے کہ ان کی پر کچھ سوائے جناب والا کے اور کسی کو حاصل نہیں اسی واسطے تمام مفسرین محققین نے اس قراءت سے بغیر تحقیق تائید معنے قراءت متواترہ کے فرمائی ہے کیونکہ وہ ان علل خفیہ غامضہ سے واقف نہ تھے اور جناب والا واقف ہیں ۔ قولہ ہاں دو قول مرجح ضمیر قبل موتہ میں البتہ منقول ہیں الح اقول جب کہ حسب اقرار جناب کے دو قول آیت کی تفسیر میں منقول ہیں اور یہ ثابت ہو چکا کہ تمام تفاسیر میں قول راجح بدلائل یہی لکھا ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی کتابی کی طرف راجع ہے تو پھر جو معنے جناب لیتے ہیں ان کی قطعیت میں کیونکر فرق نہ آوے گا اور و ماهو جوابكم فهو جو ابنا جو ارشاد ہے وہ یہاں پر نہیں ہو سکتا یہ تو قیاس مع الفارق ہے کیونکہ آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں احتمال مخالف غیر ناشی عن الدلیل ہے یہ تو مقابلہ نص کا ہوا جاتا ہے۔ ساتھ قول کے بلکہ ترجیح قول کی اوپر نص کے ہوئی جاتی ہے اور یہی تو تقلید نا جائز ہے جس کو ہم اور آپ مدت سے چھوڑے بیٹھے ہیں ذوالوجوہ کلام میں خواہ کلام الہی ہو یا کلام رسول مقبول صلعم کسی معنے کو اقوال سے ترجیح ہو سکتی ہے اور نص کے مقابل قول کی ترجیح درست نہیں کتب اصول فقه مثل مسلم الثبوت وغیرہ کے یہ مسئلہ معتبر نہیں ہو چکا ہے بسبب عدم فرق کرنے کے ان دونوں امروں میں جناب والا کو اس مقام پر دھوکا ہو گیا ہے ذرا اس بارہ میں غور فر ما یا جاوے پس ثابت ہوا کہ یہ قیاس جناب کا قیاس مع الفارق ہے قولہ یہ کذب صریح ہے اقول صحیح بخاری سے ثابت ہو چکا ہے کہ ابن عباس وفات مسیح کے قائل ہیں ۔ پس بحکم قاعده اصول حدیث کہ صحیح بخاری مقدم ہے سب کتب حدیث پر اصح الکتب بعد كتـاب اللـه صحیح البخاری مسئلہ مسلمہ ہے پس سوائے اس کے جو قول مخالف ابن عباس کا ہے ساقط رہے گا پھر گزارش یہ ہے کہ بعض ائمہ دیگر بھی مثل ابن اسحاق اور وہب وغیرہ کے وفات مسیح کے قائل ہیں اور جو معنے اس آیت کے ابو مالک نے کئے ہیں کہ ذلک عند نزول عیسى بن مريم لا يبقى احد من