آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 279

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۷۹ الحق مباحثہ دہلی کو خالص استقبال کے واسطے ٹھہرانا زبان فرس میں ایک جدید قاعدہ کی تجدید کرنی ہے۔ باقی الفاظ ۱۴۹ ترجمتین کے جو بصیغہ مستقبل ہیں ان کی نسبت وہی گزارش ہے کہ صیغہ مستقبل کا دوام تجددی کے واسطے مستعمل ہونا کتب علم بلاغت سے ثابت ہو چکا ہے۔ قولہ یہاں ارادہ حال و استمرار قطعاً باطل ہے الخ ۔ اقول مولانا صاحب صرف آیت لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِي کا <mark>لوح</mark> <mark>محفوظ</mark> میں مکتوب ہونا جو جناب نے بحوالہ بیضاوی تحریر فرمایا اس کی کچھ ضرورت نہیں تھی کیونکہ بیضاوی وغیرہ کی تفسیر کو تو آپ آیت ليومنن به قبل موته میں محض غلط اور باطل فرما چکے ہیں یہ پیچید ان جناب کی تائید کے واسطے یہ عرض کرتا ہے کہ کل قرآن مجید <mark>لوح</mark> <mark>محفوظ</mark> میں مکتوب ہے۔ قال الله تعالى بَلْ هُوَ قُرْ أَنَّ مَجِيدٌ فِي <mark>لَوْحٍ</mark> <mark>مَّحْفُوظ</mark> مگر گزارش یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو از منہ ثلاثہ کا اعتبار کیا گیا ہے وہ وقت نزول سے کیا گیا ہے ورنہ اگر وقت کتابت <mark>لوح</mark> <mark>محفوظ</mark> کا لحاظ کیا جاوے تو تمام از منہ ثلاثہ ماضی و حال و استقبال بلکہ استمرار سب استقبال ہی میں داخل ہیں پھر جناب والا کی تمام بحث عمدہ اور اصل جونون ثقیلہ کی نسبت ہے محض بیکار ہوئی جاتی ہے۔ پس اندریں صورت جو آیات کہ حضرت اقدس نے تحریر فرمائی ہیں ان کا تو ذکر ہی کیا ہے اس بنا پر تو تمام صیغے ماضی و حال و استمرار مندرجہ قرآن مجید سب استقبال میں داخل ہیں اور یه نزاع حال و استمرار کا محض بے سود۔ اگر آیت لیؤمنن به قبل موتہ میں حضرت اقدس نے استمرار مراد لیا تو کتابت <mark>لوح</mark> <mark>محفوظ</mark> سے وہ بھی استقبال میں داخل رہا اور اس آیت لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی میں بھی اگر حال یا استمرار مراد لیا تو وہ بھی کتابت <mark>لوح</mark> <mark>محفوظ</mark> سے استقبال میں ہی ہوا پھر یہ جو آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ ارادہ استمرار قطعاً باطل ہے اسکے کیا معنے ہیں۔ استمرار بھی تو اس بنا پر استقبال ہی میں داخل ہے یہ تو ایسا استقبال ہے کہ کوئی زمانہ اس سے باہر رہ ہی نہیں سکتا اور ترجمہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب کو جو بلفظ مضارع ہے خالص استقبال کہنا جناب کا ہی کام ہے یہ پیچید ان تو اس مسئلہ کو کہتے کہتے تھک گیا ۔ گفته گفته من شدم بسیار گو از شما یک تن نه شد اسرار جو ناظرین کو اب بخوبی معلوم ہو گیا ہوگا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب کا بعد تین پر چوں کے بحث کا ختم کر دینا نہایت ہی ضروری تھا ورنہ اپنی اوقات کو مکر رسہ کر ر صرف کرنا محض تضیع اوقات تھی کیونکہ مولوی صاحب کی اس بحث میں سواء اعادہ ان امور کے جن کا جواب شافی و کافی اول ہی پرچہ میں ہو چکا اور رہا سہا بلکہ مکرر دوسرے پرچہ میں بھی اتمام حجت کیا گیا اور پھر پر چہ ثالث میں بھی بپاس خاطر مولانا صاحب کے سہ کر ر جوا بہائے شافی و کافی دیئے گئے معہذا اگر اب بھی بحث ختم نہ کی جاتی تو اس ہیچمد ان کو یہ بتلایا جاوے کہ وہ کون سا امر جدید جواب طلب پیش کیا گیا ہے جس کا جواب مکر رسہ کر ر نہ ہو چکا ہو ا المجادلة: ٢٢ ٢ البروج : ٢٢-٢٣