آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 240

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۴۰ الحق مباحثہ دہلی ترجمہ سب کے سب صیغے مضارع کے ہیں نہ خالص استقبال کے۔ اس پر علاوہ یہ ہوا ہے کہ اردو میں لفظ ابھی کا جو خالص حال کے واسطے آتا ہے مولوی صاحب نے اس کو ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب میں یعنی ابھی جلا دیں گے ہم اس کو ، خالص استقبال کے واسطے مقرر فرمایا ہے۔ اب ناظرین انصاف فرماویں کہ مولوی صاحب کا اس جگہ پر حضرت مرزا صاحب کی نسبت یہ فرمانا کہ هذا بعيد من شان المحصلین - کیسا اپنے موقع اور محل پر واقع ہوا ہے۔ سبحان اللہ۔ علم مناظرہ مولوی صاحب نے علم مناظرہ کی طرف صرف اس قدر توجہ فرمائی کہ حضرت مرزا صاحب نے جو تعریف مدعی کی لکھی۔ اور اس کی فلاسفی بیان فرمائی اس پر جھٹ اعتراض کر دیا کہ یہ تعریف لفظ مدعی کی مخالف ہے اس کے جس کو علماء مناظرہ نے لکھا ہے اور رشید یہ سے یہ عبارت نقل فرمادی کہ :۔ المدعى من نصب نفسه لاثبات الحكم اى تصدى لان يثبت الحكم الخبرى الذي تكلم به من حيث انه اثبات بالدليل او التنبيه -مگر یہ نہ سوچا کہ حضرت مرزا صاحب نے جو سر اور گر مدعی ہونے کا بہ تفصیل وبسط کلام بتلایا ہے اور اس پر ایک دلیل عقلی قطعی بھی قائم کر دی ہے۔ وہی سر من حيث انه اثبات بالدلیل کی حیثیت سے بخوبی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ رشیدیہ میں اسی تعریف کے آگے اس قید حیثیت کا فائدہ یہ لکھا ہے۔ فلایرد ما قيل انه يصدق هذا التعريف على الناقض بالنقض الاجمالي والمعارض وهماليس بمدعيين في عرفهم لانهمالم يتصديا لاثبات الحكم من حيث انه اثبات بل من حيث انه نفى لاثبات حكم تصدى باثباته الخصم و من حيث انه معارضة لدليله۔ مگر مولوی صاحب نے تو سوائے ایک نون ثقیلہ کے جس کا حال انشاء اللہ تعالیٰ بیان علم نحو میں آئے گا کسی طرف توجہ ہی نہیں فرمائی ۔ نہ تو اس قید حیثیت پر نظر فرمائی جو خود تحریر نہیں فرمائی تھی اور نہ اس عبارت رشیدیہ کی طرف غور فرمایا جو لکھی گئی ۔ اور حضرت مرزا صاحب نے تو جہاں جہاں اپنے رسائل میں بطور معارضہ کے وفات عیسی بن مریم ثابت کی ہے یا نقض اجمالی یا نقض تفصیلی کیا ہے یا دلیل حیات میں کوئی فساد بیان فرمایا ہے اور یا دلیل مدعی حیات کو باطل کیا ہے تو اس بیان نقض و ن و معارضہ سے حضرت ا ے حضرت اقدس سلمه مدعی نف مدعی نفس الامری کیونکر ہو سکتے ہیں ۔ ۔