آسمانی فیصلہ — Page 235
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۳۵ الحق مباحثہ دہلی استدلال از روئے علم منطق مولوی صاحب نے اس مباحثہ میں علم منطق سے بھی کام نہیں لیا اور نہ شکل اول بدیہی الانتاج سے ایک دو سطر میں فیصلہ ہو جاتا مگر یاد رہے کہ میں مدعی نہیں ہوں بلکہ ناقض اور معارض ہوں ۔ بطور نمونہ کے تقریر اس کی یہ ہے۔ عیسی بن مریم كان نبيامن الناس ومات الناس حتّى الانبياء يعني كلهم ما توا فعيسى بن مريم ايضًا مات مقدمہ صغری تو مسلّم ہی ہے اور مقدمہ کبری ایسا مشہور ہے کہ اطفال مکتب لفظ حتی کی مثال میں پڑھا کرتے ہیں پس وہ بھی مسلم ہے اور اگر مسلم نہ ہو تو آیت قرآن مجید موجود ہے ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ لب وغير ذلك من الآيات تنبیہ جامع مسجدوں میں اثناء خطب منظومہ اردو میں ائمہ مساجد پڑھا کرتے ہیں۔ آدم کہاں حوا کہاں مریم کہاں عیسی کہاں ہارون اور موسی کہاں اس بات کا ہے سب کو غم ايضاً حضرت آدم نبی نیچے زمیں کے چل بسے نوح کشتی بان عالم بھی یہاں سے چل بسے یوسف و یعقوب و اسماعیل و اسحاق وخليل اور سلیمان آسمانی مہر والے چل بسے ہوڈ اور ادریس و یونس شیت وایوب و شعیب دعوت اسلام کر کے ٹھہرے چندے چل بسے حضرت عیسی نبی دارد و موسی خاک میں لے کے توریت و زبور انجیل حق سے چل بسے واسطے جن کے زمین و آسمان پیدا ہوا جنت الفردوس میں وہ حق کے پیارے چل بسے الى آخر ما قال ۔ استدلال از روئے علم بلاغت اس علم کی طرف بھی مولوی صاحب نے رخ تک نہیں کیا ورنہ بہت آسانی سے فیصلہ ہو سکتا تھا مطول اور اس کے حواشی میں لکھا ہے وتقديم المسند اليه للدلالة على ان المطلوب انماهو اتصاف المسند اليه بالمسند على الاستمرار لا مجرد الاخبار بصدوره عنه كقولك الزاهد يشرب و يعزب دلالة على انه يصدر الفعل عنه حالة فحالة على سبيل الاستمرار قال السيد السند على قول العلامة۔ انما يدل عليه الفعل آل عمران : ۱۴۵ ۱۰۵