آسمانی فیصلہ — Page 228
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۲۸ الحق مباحثہ دہلی ۹۸ دہلی واسطے مطالعہ کے روانہ فرمایا جاوے اس پر بغور وا معاون نظر کرلوں گا۔ ایک گزارش پنجم مشورہ ضروری خدمت مبارک میں عرض کرتا ہوں کہ آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ کو جناب نے حیات مسیح میں قطعی الدلالت بڑے زور شور سے ثابت کیا ہے۔ علماء دہلی حضرت میاں صاحب مد ظله و غیره و نیز مولوی محمد حسین بٹالوی اس آیت کو حیات مسیح میں قطعی الدلالت نہیں سمجھتے۔ چنانچہ جناب نے بھی بروقت ملاقات اس بیچمیدان سے یہ امر بیان فرمایا تھا اور نیز بذریعہ تحریرات آمدہ از دہلی یہ امر احقر کو معلوم ہوا تھا اور نیز مولوی محمد حسین نے اشاعہ میں صرف اتنا لکھا ہے کہ یہ آیت مطلوب میں اشارہ کرتی ہے۔ اندریں صورت یہ سب علماء اس استدلال میں آپ سے مخالف ہیں اگر اولاً مباحثہ جناب ان علماء سے ہو جاوے اور پہلے باہمی آپس میں اس کا تصفیہ کر لیا جاوے تو بہتر ہے کہ اس کا ثمرہ عظیم حاصل ہوگا ۔ احقر بھی اس امر خاص میں ان علماء کا موافق ہے جب تک کہ وہ حق پر رہیں بعد تصفیہ باہمی کے جو امر حق ہوگا احقر تک بھی پہنچ جائے گا اور اگر یہ مشورہ پسند خاطر عاطر نہ ہو تو وہی مباحثہ دہلی روانہ فرما دیا جاوے۔ انشاء اللہ تعالیٰ احقاقاً للحق اس پر بہت غور وامعان سے نظر کرلوں گا۔ گزارش ششم علاقہ محبت اور ہجر ان کی نسبت جو جناب نے فرمایا اس کی نسبت یہ گذارش ہے کہ فی الحقیقت احقر کو تو جناب کی خدمت میں اب تک ویسی ہی محبت ہے جیسا کہ سابق میں تھی اس وجہ سے جو اشعار عربی جناب نے لکھے ہیں ان کو بار بار پڑھتا ہوں اور دل نیاز منزل پر ایک حالت رقت کی طاری ہوتی ہے اور ان کے ساتھ ان اشعار کو بھی خم کرتا ہوں ۔ ولقد ندمت على تفرق شملنا ندما افاض الدمع من اجفاني ونذرت ان عاد الزمان يلمنا ماعدت اذكر فرقة بلساني واقول للحساد موتوا حسرة والله اني قد بلغت امانی طفح السرور على حتـى انــه من فرط ما قد سرنی ابکانی ياعين ما بال البكالك عادة تبكين في فرح وفي احزاني اور عبارت جناب میں یہ جو منطوق بالمفہوم ہے کہ جب سے اس مسئلہ کوتم نے تسلیم کیا ہے۔ تب سے ہجران ا النساء: ١٦٠