آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 158

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۵۸ الحق مباحثہ دہلی ۲۸ ہے موافق اس آیت کے جو احادیث صحیحہ کی طرف رجوع کی گئی تو بکثرت اس باب میں احادیث صحیحہ موجود ہیں جن کا تو اتر جناب مرزا صاحب نے ازالہ الا وہام کے صفحہ ۵۵۷ میں تسلیم فرمایا ہے ان میں سے حدیث متفق علیہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول ابوهريرة فاقرء وا ان شئتم وان من اهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته الآية معنے حقیقی ابن مریم کے عیسی بن مریم ہیں اور صارف یہاں کوئی موجود نہیں بلکہ آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ اس معنی کی تعیین کر رہی ہے پس نزول عیسیٰ علیہ السلام متعین ہو گیا۔ اس سے ظاہر یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں ابن کثیر میں ہے ۔ وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابي حدثنا احمد بن عبد الرحمن حدثنا عبدالله بن جعفر عن ابيه حدثنا الربيع بن انس عن الحسن انه قال في قوله تعالی انی متوفیک یعنی وفاة المنام رفعه الله فـي مـنـامـه قال الحسن قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة ۔ یہ حدیث اگر چہ مرسل ہے لیکن آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ اس کی صحت کی عاضد ہے یہ اخیر چار آیات اگرچہ ہر واحدان میں سے بنفسہا دلیل قطعی حیات مسیح علیہ السلام پر نہیں ہے مگر تا ہم بہ نسبت ان تنہیں آیات کے جو جناب مرزا صاحب نے ازالہ الاوہام میں واسطے اثبات وفات مسیح علیہ السلام کے لکھی ہیں۔ یہ آیات قوی الدلالت حیات مسیح پر ہیں۔ باقی رہا یہ امر کہ جناب مرزا صاحب نے تمیں آیات واسطے اثبات وفات مسیح علیہ السلام کے لکھی ہیں سو ان کا جواب اجمالی یہ ہے کہ یہ آیات تین قسم کی ہیں اول وہ جن میں لفظ توفی با تخصیص حضرت مسیح کی نسبت واقع ہوا ہے ۔ دوم وہ آیات جو عموماً سب انبیاء گزشتہ کی نات پر دلالت کرتی ہیں سوم وہ آیات کہ نہ ان میں حضرت مسیح کی وفات کا خصوصاً ذکر ہے نہ عموماً صرف جناب مرزا صاحب نے ان سے محض اجتہاداً استنباط وفات کیا ہے قسم اول کا جواب یہ ہے کہ بعض فرض و تسلیم اس کے لفظ توفی کے معنے حقیقی موت وقبض روح کے ہیں اور دوسرے معنے مجازی ہیں ہم کہتے ہیں کہ آیہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۔ سے جو قطعی الثبوت و قطعی الدلالة ہے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کی ثابت ہو گئی تو اب یہ آیت صارف ہوگئی آیات مذکورہ کی معنی حقیقی سے اس لئے آیات تو فی معنی مجازی پر محمول کی جاویں گی اور وہ معنی مجازی جو یہاں مراد ہو سکتے ہیں وہ اخذ تـــام و قبض ہے جس کو اردو ا النساء: ١٦٠