آسمانی فیصلہ — Page 138
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۳۸ حفا لتهم ابقيتُ فِيهَا إِذَا مَضَوُا ۱۵ فامسيت احيى بالطغام وبالقحب بليت باهل الجهل ويل لأمهم ١٦ مضرتهم ادهى من الذئب والكلب يعادون اهل العلم والعلم كله ١٧ لما همهم في لذة الفرج والشرب اقاسى الاذى من جهلهم ومرائهم ۱۸ وشدتهم بالسبع كالطعن والخلب على غربة فيها هموم و كربة ١٩ و انواع اسقام و فقد اخي الحب و ما لاقني في ذي البلاد مواسيا ٢٠ ولم يتيسر أسيا من فتى ندب وحيد واصناف الخطوب ينوبني ۲۱ تعددت البلوى على عادم الصحب اراني مع الاوغاد يستصحبونني ۲۲ اعلم غير الاهل كالقرد و الدب لقد ضاق صدري بالاقامة عندهم ۲۳ وسوء جوار العابس الوجه ذي قطب ۱۵ ۔ وہ برگزیدے تو چلے گئے اور میں ردی سا پیچھے رہ گیا۔ اب کمینوں قلاشوں میں مجھے زندگی بسر کرنی پڑ گئی۔ ۱۶۔ جاہلوں سے میرا پالا پڑ گیا۔ اُن کی جننے والی پر افسوس ۔ یہ تو کتوں اور بھیڑیوں سے بھی بڑھ کر موذی ہیں۔ ۱۷۔ فسق و فجور اور مے خواری کے دل دادہ ہیں اس لئے علم اور اہل علم سے بیر رکھتے ہیں۔ ۱۸۔ مجھے ان کے ناحق کے جھگڑے۔ جہالت اور گالی گلوچ سے سدا تکلیف رہتی ہے۔ ۱۹۔ مزید برآں پر دیں۔ اور پھر ہر طرح کے رنج وغم اور بیماریاں اور محبوں کا نہ ہونا۔ ۲۰۔ افسوس ان دیسوں میں مجھے کوئی غمخوار نہ ملا اور نہ کوئی جوانمر دفیاض غمگسار ہا تھ آیا۔ ۲۱۔ میں اکیلا ہوں اور اس پر طرح طرح کے مصائب مجھ پر پڑ گئے ہیں۔ جس کے دوست نہ ہوں اُس پر بہت سی مصیبتیں وارد ہوا ہی کرتی ہیں۔ ۲۲۔ میرا یہ حال ہو رہا ہے کہ فرومایہ لوگوں سے سنگت نصیب ہو رہی ہے۔ اور بندروں اور ریچھوں کے ایسے نا اہلوں کا معلم بنا ہوا ہوں ۔ ۲۳ ۔ ان بد مزاج ۔ بدخو ۔ ترش رو ہم نشینوں میں رہنے اور اُن کی سنگت سے میرا دل اُکتا گیا ہے۔