آسمانی فیصلہ — Page 84
روحانی خزائن جلد ۴ لد مباحثہ لدھیانہ ۸۲ اعتقاد ہے اب اگر ان مخالف حدیثوں کی جو قرآن اور احادیث صحیحہ کے برخلاف ہیں ہماری طرز پر تاویل نہ کی جائے تو پھر بلا شبہ موضوع ٹھہریں گی اور خود وہ حدیثیں پکار پکار کر بتلا رہی ہیں کہ ابن مریم کا لفظ ان میں حقیقت پر محمول نہیں لیکن اس زمانہ کے اکثر مولوی صاحبان اور خاص کر آپ کی مرضی معلوم ہوتی ہے کہ قرآن سے ان کی تطبیق نہ دی جائے گو وہ بوجہ اس مخالفت کے موضوع ہی ٹھہر جائیں آپ کا دعوی تطبیق کا ہے لیکن اس فضول دعوی کو کون سنتا ہے جب تک آپ اس بحث کو شروع کر کے تطبیق کر کے نہ دکھلائیں ایسا ہی کئی حدیثیں اور بھی ہیں جن میں سخت تعارض باہمی پایا جاتا ہے مثلاً بخاری کے صفحہ ۴۵۵ میں جو معراج کی حدیث بروایت مالک لکھی ہے وہ دوسری حدیثوں سے جو اسی بخاری میں درج ہیں بالکل مختلف ہے صرف نمونہ کے طور پر دکھاتا ہوں کہ اس حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ کو چھٹے آسمان پر دیکھا لیکن بخاری کے صفحہ ۴۷۱ میں ابوذر کی روایت سے بجائے موسیٰ کے ابراہیم کا چھٹے آسمان پر دیکھنا لکھا ہے ! اور پھر وہ حدیث بخاری کی جو باب صلوۃ میں ہے اور نیز امام احمد کی مسند میں بھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج بیداری میں تھا اور اسی پر اکثر اکابر صحابہ کا اتفاق بھی ہے لیکن بخاری کی حدیث صفحہ ۴۵۵ جو مالک کی روایت سے ہے اور نیز بخاری کی وہ حدیث جو شریک بن عبداللہ سے ہے صاف بیان کر رہی ہیں کہ وہ اسراء یعنی معراج نیند کی حالت میں تھا۔ اور تینوں حدیثوں میں محل نزول جبرئیل مختلف لکھا ہے کسی میں عند البیت اور کسی میں اپنا گھر ظاہر کیا ہے اور شریک کی حدیث میں قبل ان یوحی کا لفظ بھی درج ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت کی پیغمبری سے پہلے معراج ہوا تھا حالانکہ اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہ اسراء بعد بعثت ہوا ہے تبھی تو نمازیں بھی فرض ہوئیں ۔ اور خود حدیث بھی بعد البعث پر دلالت کر رہی ہے جیسا کہ اسی حدیث میں جبرئیل کا قول بواب السماء کے اس سوال کے جواب میں کہ أَبُعِثَ ۔ نَعَمُ لکھا ہے ۔ ان اختلافات کا اگر یہ جواب دیا جائے کہ یہ اسراء متعد د اوقات میں واقع ہوا ہے اسی وجہ سے کبھی موسیٰ کو چھٹے آسمان میں دیکھا اور کبھی ابراہیم کو تو یہ تاویل رکیک ہے کیونکہ انبیاء اور اولیا بعد موت کے اپنے اپنے مقامات سے تجاوز نہیں کرتے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے۔ ماسوا اس کے معراج کے متعدد ماننے میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بعض احکام نا قابل تبدیل اور مستمرہ کا فضول طور پر منسوخ ماننا پڑتا ہے اور حکیم مطلق کو ایک لغو اور بے ضرورت تنسیخ کا مرتکب قرار دے کر پھر پشیمانی کے طور پر پہلے ہی حکم کی طرف عود کرنے والا اعتقاد کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اگر قصہ معراج کئی مرتبہ